اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 7

روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ کو قرآن سے یا حدیث صریح صحیح سے تو ڑ کر دکھلاتے جو حضرت مرزا صاحب نے مسیح کی موت (۵) پرلکھی ہیں۔ مگر اس دلی شعور نے کہ وہ واقعی بے سلاح ہیں انہیں اس طرف مائل کیا کہ وہ جوں توں کر کے اپنے منہ کے آگے سے اس موت کے پیالہ کو ٹال دیں وہ نہ ٹلا۔ اور آخر مولوی صاحب پر ذلت کی موت وارد ہوئی ! فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِی الْاَبْصَارِ ۔ اب امید ہے کہ وہ حسب قاعدہ کلیہ اس دنیا میں پھر نہ اٹھیں گے۔ چنانچہ لا ہوری برگزیدہ جماعت نے بھی انہیں مردہ یقین کر کے اس درخواست میں اور اور بظاہر زندہ مولویوں کو مخاطب کیا ہے اور ان پر فاتحہ پڑھ دی ہے۔ ہم بھی انہیں روح میں مردہ سمجھتے اور ان کی موت پر تاسف کرتے ہیں ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اسلامی پبلک حیران ہے کہ کیوں مولوی ابوسعید صاحب نے اس بحث اور گزشتہ بحث میں قرآن کریم کی طرف آنے سے گریز کرنا پسند کیا اور کیوں وہ صاف صاف قرآن کریم اور فرقان مجید کی رو سے وفات وحیات مسیح کے مسئلہ کی نسبت گفتگو کرنے کی جرات نہ کرتے یا عمداً کرنا نہ چاہتے تھے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اپنی نصوص قطعیہ بینہ کا جرار وکرار لشکر اور ان گنت لشکر لے کر حضرت مرزا صاحب کی تائید پر آمادہ ہے۔ دوسو آیت کے قریب حضرت مسیح کی وفات پر بالصراحہ دلالت کر رہی ہیں ۔ مولوی ابوسعید صاحب نے نہ چاہا (اگر وہ چاہتے تو جلد فیصلہ ہو جاتا ) کہ قرآن مجید کو اس نزاع میں جلد اور بلا واسطہ حکم اور فاصل بناویں اسلئے کہ وہ خوب سمجھتے تھے کہ سارا قرآن آنحضرت مرزا صاحب کے ساتھ ہے اور وہ اس خواہ نخواہ معاندانہ کارروائی سے زک اٹھائیں گے ۔ لیکن پیش بندی یہ مشہور کرنا اور بات بات میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب حدیث کو نہیں مانتے ۔ نعوذ باللہ ۔ ہم اس امر کا فیصلہ اہل تحقیق ناظرین پر چھوڑتے ہیں وہ دیکھ لیں گے اور مرزا صاحب کے جابجا اقراروں سے بخوبی سمجھ لیں گے کہ حدیث کی کچی اور واقعی عزت حضرت مرزا صاحب ہی نے کی ہے۔ ان کا مدعا و منشا یہ ہے کہ حدیث کے ایسے معنے کئے جائیں جو کسی صورت میں کتاب اللہ الشریف کے مخالف نہ پڑیں بلکہ حدیث کی عزت قائم رکھنے کیلئے اگر اس میں کوئی ایسا پہلو ہو جو بظاہر نظر کتاب اللہ کی مخالفت کا احتمال رکھتا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے اسے قرآن کے ساتھ تو فیق و تطبیق دینے کی سعی بلیغ کرتے ہیں اگر ناچار کوئی ایسی