اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxxix
الغرض جو شخص مباحثہ دہلی کو بغور پڑھے گا۔اُس پر صاف کھل جائے گا کہ علماء کے ہاتھ میں حیات مسیحؑ ثابت کرنے کے لئے کوئی قطعی دلیل نہیں۔نہ کوئی آیت اور نہ کوئی صحیح حدیث۔اور یہ مباحثہ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے بہت لوگوں کی ہدایت کا باعث ہوا۔’’آسمانی فیصلہ‘‘ چونکہ میاں نذیر حسین صاحب اور اُن کے شاگرد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور دیگر علماء دہلی نے حیات و وفات مسیحؑ کے مسئلہ پر بحث کرنے سے انکار کیا اور میاں سید نذیر حسین صاحب نے بحث ٹالنے کے لئے بار بار یہی عذر کیا کہ آپ کافر ہیں اور مسلمان نہیں تو آپؑ نے دسمبر ۱۸۹۱ء میں رسالہ ’’آسمانی فیصلہ‘‘ لکھا۔جس میں خاص طور پر میاں سید نذیر حسین صاحب کو پھر تحریری بحث کے لئے دعوت دی۔اور فرمایا اگر وہ لاہور آ سکیں تو اُن کے آنے جانے کا کرایہ بھی میں ادا کردوں گا۔ورنہ دہلی میں بیٹھے ہوئے اظہارِ حق کے لئے تحریری بحث کر لیں۔میاں صاحب سے بحث کومیں اس لئے ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ شیخ الکل ہیں اور لوگوں کے خیال میں سب سے علم میں بڑھے ہوئے اور علماء ہند میں بیخ کی طرح ہیں اور کچھ شک نہیں کہ بیخ کے کاٹنے سے تمام شاخیں خودبخود گریں گی۔اور چونکہ انہوں نے میرے اعلانات کو کہ میں مومن مسلمان ہوں کوئی وقعت نہیں دی اس لئے اب مولوی نذیر حسین صاحب اور اُن کی جماعت کے لوگ بٹالوی وغیرہ علماء اُن علامات کے اظہار کے لئے مجھ سے مقابلہ کر لیں جو قرآن کریم اور احادیث میں کامل مومن کی بتائی گئی ہیں۔لیکن کسی کو اس مقابلہ کے لئے آپ کے سامنے آنے کی جرأت نہ ہوئی۔’’نشان آسمانی‘‘ اِس کے بعد آپ نے سیالکوٹ اور لاہور وغیرہ کے سفر اختیار کئے اور پھر لدھیانہ گئے لدھیانہ میں آپ نے مجذوب گلاب شاہ کی پیشگوئی بالتفصیل اُن کے شاگرد کریم بخش صاحب سے حلفیہ قلمبند کروائی۔اور اواخر مئی۱۸۹۲ء میں آپ نے رسالہ ’’نشان آسمانی‘‘ جس کا دوسرا نام شہادت الملہمین ہے تحریر فرمایا جو جون ۱۸۹۲ء میں شائع ہوا۔اور دوسری بار ۱۸۹۶ء میں حضور علیہ السلام کی زندگی میں ہی شائع ہوا تھا۔اس میں آپ نے