اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxxiv
قائمی امن کے ذمہ دار ہیں اور اگر کوئی خلاف تہذیب و ادب کوئی کلمہ مُنہ پر لاوے گا تو فی الفور اس کو مجلس سے نکال دیں گے۔تو اس صورت میں یہ عاجز مولوی صاحب کی مسجد میں بحث کے لئے حاضر ہو سکتا ہے۔اِس ۶؍ اکتوبر کے اشتہار شائع ہونے کے بعد مولوی سیّد نذیر حسین صاحب کے شاگردوں نے خود ہی ایک تاریخ معیّن کر کے ایک اشتہار شائع کر دیا کہ فلاں تاریخ کو بحث ہو گی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اِس کی اطلاع نہ دی اور بحث کے مقررہ وقت پر حضورؑ کے پاس ایک آدمی بھیج دیا کہ بحث کے لئے چلئے۔مولوی نذیر حسین صاحب مباحثہ کے لئے آپ کا انتظار کر رہے ہیں اور دوسری طرف حضور کے خلاف لوگوں کو سخت بھڑکایا گیا تھا۔اور جلسہ کی غرض بھی بلوہ کر کے حضور علیہ السلام کو ایذاء پہنچانا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے حالات میں بغیر شرائط طے کئے جلسہ میں شامل نہ ہو سکتے تھے اور نہ ہوئے اور لوگوں میں یہ مشہور کر دیا گیا کہ مرزا صاحب بحث میں حاضر نہیں ہوئے اور گریز کر گئے ہیں اور شیخ الکل صاحب سے ڈر گئے ہیں۔تب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ایک اشتہار بدیں عنوان شائع کیا:۔’’اﷲ جلّ شانہٗ کی قسم دے کر مولوی سید محمد نذیر حسین صاحب کی خدمت میں بحثِ حیات و ممات مسیح ابنِ مریم کے لئے درخواست۔‘‘ اِس اشتہار میں حضور علیہ السلام نے ان کے جھوٹے فرار از بحث کے الزام کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا:۔’’یکطرفہ جلسہ میں حاضر ہونا اگرچہ میرے پر فرض نہ تھا کیونکہ میری اتفاق رائے سے وہ جلسہ قرار نہ پایا تھا۔او ر میری طرف سے ایک خاص تاریخ میں حاضر ہونے کا وعدہ بھی نہ تھا مگر پھر بھی میں نے حاضر ہونے کے لئے طیاری کر لی تھی لیکن عوام کے مفسدانہ حملوں نے جو ایک ناگہانی طور پر کئے گئے۔اُس دن حاضر ہونے سے مجھے روک دیا صدہا لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ اس جلسہ کے عین وقت میں مفسد لوگوں کا اس قدر ہجوم میرے مکان پر ہو گیا کہ میں اُن کی وحشیانہ حالت دیکھ کر اوپر کے زنانے مکان میں چلا گیا۔آخر وہ اسی طرف آئے اور گھر کے کواڑ توڑنے لگے اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ بعض آدمی زنانہ مکان میں گھس آئے۔اور ایک جماعت کثیر نیچے اور گلی میں کھڑی تھی جو گالیاں دیتے تھے اور بڑے جوش سے بدزبانی کا بخار نکالتے تھے۔