اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxi of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxxi

یہ سُن کر فوراً کھڑے ہوگئے اور از راہ ظرافت ہاتھ جوڑ کر بولے کہ ’’مولوی صاحب! میں نے قرآن شریف چھوڑا روٹی مت چھڑاؤ‘‘ اِس پر مولوی بٹالوی صاحب سخت شرمندہوئے۔اور مولوی نظام الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا عرض کر کے کہا کہ اب تو جدھر قرآن شریف ہے اُدھر میں ہوں۔اِس کے بعد آپ نے بیعت کر لی۔۱؂ مباحثہ دہلی اِن حالات میں جب ہر جگہ لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف اُکسایا اور بھڑکایا جا رہا تھا۔حضورؑ چاہتے تھے کہ کسی بارسوخ اور بااثر عالم سے آپ کا حیات و وفات مسیحؑ اور آپ کے دعوے پر مباحثہ ہو جائے تاعامۃ الناس کو حق و باطل میں امتیاز کا موقع مل سکے اس لئے آپ نے تمام علماء کو بذریعہ اشتہار دعوتِ مناظرہ دی۔مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی ضلع سہارنپور میں ایک بہت بڑے عالم اور فقیہ اور محدّث خیال کئے جاتے تھے اور انہیں گروہ مقلّدین میں وہی مرتبہ اور مقام حاصل تھا جو مولوی سیّد نذیر حسین صاحب دہلوی کو اہل حدیث گروہ میں تھا۔وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مباحثہ کرنے میں پہلو تہی کرتے رہے۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص مرید تھے اور لدھیانہ میں حضور کی خدمت میں حاضر تھے اور وہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے ہمزلف بھی تھے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیاکہ اگر حکم ہو تو میں مولوی رشید احمد صاحب کو لکھوں کہ وہ مباحثہ کے لئے آمادہ ہوں۔چنانچہ پیر صاحب اور اُن کے درمیان خط و کتابت ہوئی۔حیات و وفات مسیحؑ پر وہ بھی بحث کے لئے تیار نہ ہوئے۔اور لکھا کہ بحث نزولِ مسیحؑ میں ہو گی اور تحریری نہیں بلکہ صرف زبانی ہو گی لکھنے یا کوئی جملہ نوٹ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہو گی۔اور حاضرین میں سے جس کے جی میں جو آوے گا رفع شک کے لئے بولے گا۔اور بحث کا مقام سہارنپور ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سہارنپور جانا بھی