اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxvii
حضرت اقدس نے جواباً تحریر فرمایا کہ ’’اصلی امر اس بحث میں جناب مسیح ابن مریم کی وفات یا حیات ہے اور میرے الہام میں بھی یہی اصل قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ الہام یہ ہے کہ ’’مسیح ابن مریم رسول اﷲ فوت ہو چکا ہے اور اُس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تُو آیا ہے۔‘‘ ’’سو پہلا اور اصل امر الہام میں بھی یہی ٹھہرایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اب ظاہر ہے کہ اگر آپ حضرت مسیح کا زندہ ہونا ثابت کر دیں گے تو جیسا کہ پہلا فقرہ الہام کا اس سے باطل ہو گا ایسا ہی دوسرا فقرہ بھی باطل ہو جائے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے میرے دعویٰ کی شرط صحت مسیح کا فوت ہونا بیان فرمایا ہے۔‘‘ ’’میں اقرار کرتا ہوں اور حلفاً کہتا ہوں کہ اگر آپ مسیح کا زندہ ہونا کلامِ الٰہی سے ثابت کردیں گے تو میں اپنے دعویٰ سے دست بردار ہو جاؤں گا اور الہام کو شیطانی القاء سمجھ لوں گا۔اور توبہ کروں گا۔‘‘ ۱ (مکتوباتِ احمد جلد اول مکتوب نمبر۱۶ صفحہ۳۳۲ جدید ایڈیشن ۲۰۰۸) اس کے بعد بھی شرائط سے متعلق خط و کتابت ہوتی رہی اور مولوی محمد حسین صاحب نے یہ شرط بھی ضروری ٹھہرائی کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی گفتگو سے پہلے چند اصول آپ سے تسلیم کرائیں گے۔چنانچہ ۲۰؍جولائی ۱۸۹۱ء کو مباحثہ شروع ہوا اور بارہ دن تک جاری رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آخری پرچہ ۲۹؍ جولائی کو سنانا تھا۔جس کی اطلاع مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھی کی گئی۔لیکن اُن کے کہنے پر۳۱؍ مارچ کو سُنایا گیا جس پر یہ مباحثہ ختم ہوا۔موضوع مباحثہ یہ مباحثہ انہیں تمہیدی امور پر ہوتا رہا جو مولوی محمد حسین صاحب منوانا چاہتے تھے۔اور اصل موضوع حیات و وفاتِ مسیحؑ پر بحث سے بچنے کے لئے مولوی صاحب موصوف اِن تمہیدی امور پر بحث کو طول دیتے چلے گئے۔امر زیر بحث یہ رہا کہ حدیث کا مرتبہ بحیثیت حجتِ شرعیہ ہونے کے قرآن مجید کی طرح ہے یا نہیں اور یہ کہ بخاری اور مسلم کی احادیث سب کی سب صحیح ہیں اور قرآن مجید کی طرح واجب العمل ہیں یا نہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار یہی جواب دیا کہ میرا مذہب یہ ہے کہ کتاب اﷲ مقدّم اور امام ہے