اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxii of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxii

جانتا ہے کہ میں اپنے دعویٰ میں صادق ہوں اور اگر صادق نہیں تو پھر اِنْ یَّکُ کَاذِباً کی تہدید پیش آنے والی ہے۔‘‘ (مکتوبات احمد جلد اول۔مکتوب نمبر۷ صفحہ ۳۱۳ ایڈیشن ۲۰۰۸ء) پھر ۲۴؍ فروری ۱۸۹۱ء ؁کے خط میں مولوی محمد حسین بٹالوی نے لکھا:۔’’ اخیر میں َ میں بھی آپ کو نصیحت کرتا ہوں (جیسے کہ آپ نے مجھے نصیحت کی ہے) کہ آپ اِس دعویٰ سے کہ میں مسیح موعود ہوں عیسیٰ ابن مریم موعود نہیں ہے دستکش ہو جائیں۔یہ امر آسمانی نہیں ہے اور نہ یہ الہامِ رحمانی ہے۔اس دعویٰ الہام میں اگر آپ سچے ہوں گے تو پھر بخاری و مسلم وغیرہ کتب صحاح مہمل و بے کار ہو جائیں گی بلکہ دین اسلام کے اکثر اصول و امہاتِ مسائل بے کار ہو جائیں گے۔‘‘ اِس خط کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی جواب نہ دیا اور ۳؍ مارچ کو قادیان سے لدھیانہ تشریف لے گئے۔پھر ۶؍ مارچ کو مولوی صاحب نے حضورؑ کو لکھا کہ ’’حافظ محمد یوسف صاحب نے لکھا تھا کہ آپ ۸؍ مارچ ۱۸۹۱ء ؁ کو لاہور میں آ کر ایک مجلس علماء میں گفتگو کریں گے۔آج معلوم ہوا کہ آپ ماہ اپریل میں مجمع کرنا چاہتے ہیں۔میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ ماہ اپریل میں مَیں ہندوستان میں ہوں گا۔لہٰذا آپ گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو ابھی کریں۔ورنہ ہم لوگ جو ارادہ رکھتے ہیں وہ آپ پر ظاہر کر چکے ہیں۔‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ۸؍ مارچ ۱۸۹۱ء ؁ کو لدھیانہ سے اس خط کا جواب دیا اور یہ ذکر کر کے کہ بظاہر مجھے گفتگو میں کچھ فائدہ معلوم نہیں دیتا مجمع علماء کے انعقاد کے لئے چند شرائط تحریر فرمائیں مثلاً یہ کہ مجلس صرف چند مولوی صاحبوں میں محدود نہ ہو اور بحث محض اظہاراً للحق ہو اور تحریری ہو اور اس مجمع بحث میں وہ الہامی گروہ بھی ضرور شامل ہو جنہوں نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اِس عاجز کو جہنمی ٹھہرایا ہے اور ایسا کافر جو ہدایت پذیر نہیں ہو سکتا۔اور مباہلہ کی درخواست کی ہے۔الہام کی رُو سے کافر و ملحد ٹھہرانے والے تو میاں عبدالرحمن صاحب لکھو کے ہیں اور جہنمی ٹھہرانے والے میاں عبدالحق غزنوی ہیں جن کے الہامات کے مصدق و پیرو میاں مولوی عبدالجبار ہیں سو اِن تینوں کا جلسہ بحث میں حاضر ہونا ضروری ہے تاکہ مباہلہ کا بھی ساتھ ہی قضیّہ طے ہو جائے وغیرہ۔