اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xxi
’’پھر ۱۱؍ فروری کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا:۔’’آپ اگر اس دعویٰ میں حضرت خضر کی طرح معذور ہیں تو میں اس کے انکار اور خلاف میں حضرت موسٰی ؑ کی طرح مجبور ہوں۔آپ کے رسائل توضیح المرام اور ازالۃ الاوہام میرے خلاف کو نہیں روکیں گے مجھے یقین ہے کہ نقلی یا عقلی دلائل سے آپ اور آپ کے حواریّین آپ کا مسیح موعود ہونا ثابت نہ کر سکیں گے۔‘‘ حضورؑ نے اِس خط کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا:۔’’حضرت موسٰی ؑ کی جو آپ نے مثل لکھی ہے۔اشارۃ النص پایا جاتاہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے جیسا کہ موسٰی ؑ نے کیا۔اِس قصّے کو قرآن شریف میں بیان کرنے سے غرض بھی یہی ہے کہ تا آئندہ حق کے طالب معارفِ روحانیہ اور عجائبات مخفیّہ کے کھلنے کے شائق رہیں۔حضرت موسٰی ؑ کی طرح جلدی نہ کریں۔‘‘ ۱۶؍ فروری ۱۸۹۱ء کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے خط میں رسالہ توضیح مرام کے موصول ہونے کا ذکر کر کے لکھا کہ:۔’’اِس نے میری مخالفت رائے کو اور پختہ کر دیا ہے۔قیاس مقتضی ہے کہ ایسا ہی ازالۃ الاوہام ہو گا۔‘‘ ۲۱؍ فروری کو حضور علیہ السلام نے اِس خط کا جواب دیتے ہوئے ۵؍جنوری ۱۸۸۸ ء کی قلمی یادداشت سے اِس خواب کا ذکر کیا کہ:۔’’میں نے خواب میں دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے کسی امر میں مخالفت کر کے کوئی تحریر چھپوائی ہے اور اُس کی سُرخی میری نسبت ’’کمینہ‘‘ رکھی ہے۔معلوم نہیں اس کے کیا معنے ہیں۔اور وہ تحریر پڑھ کر کہا ہے کہ آپ کو میں نے منع کیا تھا۔پھر آپ نے کیوں ایسا مضمون چھپوایا۔ھٰذَا مَارَأَیْتُ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِتَاْوِیْلِہٖ۔(مکتوبات احمد جلد اول۔مکتوب نمبر۷ صفحہ ۳۱۳ ایڈیشن ۲۰۰۸ء) چونکہ حتّی الوسع خو اب کی تصدیق کے لئے کوشش مسنون ہے۔اِس لئے میں آنمکرم کو منع بھی کرتا ہوں کہ آپ اس ارادہ سے دستکش رہیں۔خدا ئے تعالیٰ خوب