اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page xx
خیال کو بالائے طاق رکھ کر محض اس مقصد کے پیش نظر کئے جائیں کہ تاحق ظاہر ہو جائے اور باطل کا پتہ لگ جائے اور حق کو اختیار اور باطل سے اجتناب کیا جائے تو ایسے مناظرات نہ صرف مفید بلکہ انسانی علمی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہیں۔قرآن مجید سے ظاہر ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے انبیاء اور مامورین کو بھی بسا اوقات اپنے مخالفین سے مباحثات کرنے پڑے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم (مائدہ۔انبیاء و صافات) اور ایک بااختیار بادشاہ (البقرہ ) اور اپنے چچا (مریم) سے مباحثہ کرنا قرآن مجید میں مذکور ہے۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فرعون اور ساحروں سے اور حضرت نوح علیہ السلام کے اپنی قوم سے مکالمات کا ذکر قرآن مجید کے متعدد مقامات میں آتا ہے۔انبیاء اور مامورین کی اسی سنّت کے مطابق حضرت مسیح موعود و مہدئ معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنے مخالفین سے مناظرات کئے۔چنانچہ اِس جلد میں آپ کے دو مشہور مباحثات یعنی مباحثہ لدھیانہ اور مباحثہ دہلی شائع کئے گئے ہیں۔مباحثہ لدھیانہ مباحثہ لدھیانہ کی تقریب یوں پیدا ہوئی کہ جنوری ۱۸۹۱ء کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خط لکھا کہ میں نے آپ کا رسالہ ’’فتح اسلام‘‘ کے جب امرتسر میں چھپ رہا تھا پروف مطبع ریاض ہند سے منگوا کر دیکھا اور پڑھوا کر سُنا۔پھر اُس سے عبارات نقل کر کے دریافت کیا کہ آپ نے اِس میں یہ دعویٰ کیا ہے۔’’مسیح موعود جن کے قیامت سے پہلے آنے کا خدا تعالیٰ نے اپنے کلامِ مجید میں اشارۃً اور رسول خدا صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے کلامِ مبارک میں جو صحاح میں موجود ہے صراحتًا وعدہ دیا ہے۔وہ آپ ہی ہیں۔جو مسیح ابن مریم کے مثیل کہلاتے ہیں۔نہ وہ مسیح ابن مریم جن کو عام اہل اسلام مسیح موعود سمجھتے ہیں۔مسیح ابن مریم کو مسیح موعود سمجھنے میں عام اہلِ اسلام نے غلطی کی ہے اور دھوکا کھایا ہے اور اُن احادیث کو جو مسیح موعود کی نسبت صحاح میں وارد ہیں غور سے نہیں دیکھا۔‘‘ پھر لکھا کہ:۔’’آیا اس دعویٰ سے آپ کی یہی مراد ہے۔ہاں یا نہ میں جواب دیں۔‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ۵؍ فروری ۱۸۹۱ء کو جواباً لکھا:۔’’آپ کے استفسار کے جواب میں صرف ’’ہاں‘‘کافی سمجھتا ہوں۔‘‘ (مکتوبات احمد جلد اول۔مکتوب نمبر۵ صفحہ ۳۱۱ ایڈیشن ۲۰۰۸ء)