اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 123

روحانی خزائن جلد ۴ ۱۲۳ مباحثہ لدھیانہ کافر اور شیطان مجسم ہے؟ کیا اکابر کا لفظ جو اس محل میں ہے یہی دلالت کر رہا ہے کہ وہ لوگ اکا بر کفر ۱۲۱ تھے ؟ آپ ایک خط میں محی الدین عربی کو رئیس المتصوفین اور اولیاء اللہ میں داخل کر چکے ہیں۔ وہ خط تو اس وقت موجود نہیں لیکن ایک دوسرا خط ہے جس سے بھی یہی مطلب نکلتا ہے جسکو آپ نے مولوی عبد اللہ غزنوی مرحوم کی طرف لکھا تھا جسکی یہ عبارت ہے ۔ " علم دو قسم است یکے ظاہری که بکسب و اکتساب و نظر و استدلال حاصل میشود دوم باطنی که غیب الغیب ہم سے رسد چنانچہ انبیاء علیہم السلام ومن بعد هم اولیاء کرام را حاصل بود كما قال الشيخ المحي الدين العربي في الفتوحات وقع لى اولا الخ فرمائیے کہ آپ نے ایسے محل میں کہ اولیاء الرحمن کے کلام کا حوالہ دینا چاہیئے تھا محی الدین عربی کا کیوں ذکر کیا؟ اگر وہ بزرگ آپ کے آزاد دل کی نسبت نعوذ باللہ شیطان مجسم تھا تو کیا آپ نے اپنے خط میں جو اپنے مرشد کی طرف لکھا تھا ایک شیطان کا حوالہ دینا تھا ! ما سوا اس کے آپ کا وہ پرچہ اشاعۃ السنة موجود ہے میں اپنے پر سو روپیہ تاوان قبول کرتا ہوں اگر منصفین اس پر چہ کو پڑھ کر یہ رائے ظاہر کریں کہ آپ نے ان اولیاء کو جنہوں نے ایسا رائے ظاہر کیا تھا کا فراور شیطان ٹھہرایا تھا اور ان کے ملہمات کو شیطانی مخاطبات میں داخل کیا تھا تو میں سو روپیہ داخل کر دونگا۔ آپ اپنے شائع کردہ ریویو کے منشاء سے بھاگنا چاہتے ہیں * اور ایک پرانی قوم کی عادت پر تحریفوں پر زور مار رہے ہیں والی لکم ذالک ولات حين مناص قولہ ۔ آپ کے ان افتراؤں سے کامل یقین ہوتا ہے کہ آپ کسی الہام کے دعوے میں بچے نہیں اور جو تار و پود آپ نے پھیلا رکھا ہے وہ سب افترا ہے۔ اقول ۔ میں آپ کی ان باتوں سے آزردہ نہیں ہوتا اور نہ کچھ رنج کرتا ہوں۔ کیونکہ جو لوگ حق کے مخالف تھے ۔ ہمیشہ ارباب حق اور اہل اللہ بلکہ انبیاء کی نسبت ایسے ایسے ہی ظن کرتے آئے ہیں حضرت موسیٰ کا نام مفتری رکھا گیا۔ حضرت عیسی کا نام مفتری رکھا گیا۔ ہمارے سید مولی کا نام مفتری رکھا گیا۔ بہت سے اولیاء کا نام مفتری رکھا گیا۔ پھر اگر میرا نام بھی آپ نے مفتری رکھ لیا تو کونسی رنج کی بات ہے؟ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ ے میں آپ کو بچ بچ کہتا ہوں کہ میں مفتری نہیں ہوں اور خداوند کریم نے جو ہمیشہ مصلحت عباد کی رعایت رکھتا ہے مجھے حقًا وعدلاً مامور کر کے بھیجا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے اور اب سن رہا ہے کہ اس نے مجھے ضرور بھیجا ہے تا میرے ہاتھ پر ان خرابیوں کی اصلاح ہو جو مولویوں کی کج فہمی سے امت محمدیہ میں شائع ہو گئی ہیں اور تا مسلمانوں میں نچے ایمان کا تم پھر نشو ونما کرے سوئیں بفضلم ورحمتہ تعالی سچا ہوں اور سچائی کی تائید کیلئے آیا ہوں اور ضرور تھا کہ میرا انکار کیا جاتا۔ کیونکہ براہین احمدیہ میں الہی الہام میرے حق میں یہ درج ہو چکا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول یا کہیں تحریف کرتے ہیں اور کبھی یہ نا معقول عذر تراش کر کہ مجھ کو پہلے دھو کہ ہو گیا تھا پبلک میں اپنی خفت ظاہر کرتے ہیں۔ ایک ولی اللہ کی معادات کا یہ نتیجہ ہے! ایڈیٹر۔ الحجر : ۱۴