اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 119
روحانی خزائن جلد ۴ ۱۱۹ مباحثہ لدھیانہ اور یہ امر قرآن کے مخالف ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبة اَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ لا یعنی خدائے تعالی کھلے کھلے طور پر کسی کو اپنے غیب پر بجز رسولوں کے یعنی بجز ان لوگوں کے جو وحی رسالت یا وحی ولایت کے ساتھ مامور ہوا کرتے ہیں اور منجانب اللہ سمجھے جاتے ہیں مطلع نہیں کرتا مگر دجال نے تو اس جگہ غیب کی پکی پکی خبریں سنائیں اب سوال یہ ہے کہ وہ رسولوں کی کس قسم میں سے تھا؟ کیا وہ حقیقی طور پر منصب رسالت رکھتا تھا یا نبی تھا یا محدث تھا ؟ ممکن نہیں کہ خدائے تعالیٰ کے کلام میں کذب ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تمیم داری کے قول کی تصدیق کی یہ تصدیق در حقیقت اس شخص اور معین آدمی کی نہیں جو تمیم داری کے ذہن میں تھا بلکہ عام طور پر ان واقعات کی تصدیق ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ دجال آئے گا اور مدینہ اور مکہ میں نہیں جا سکے گا۔ اور اس جگہ کسی لفظ سے ثابت نہیں ہوتا کہ وحی الہی کے رو سے آنحضرت نے تمیم داری کی تصدیق کی ۔ بلکہ معمولی طور پر اور بشری عادت کی طرز سے بغیر لحاظ کسی خصوصیت کے چند واقعات کی تصدیق کی تھی اور حدیث کے لفظوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمیم داری کے اس لفظ کی جو دجال ایک جزیرے میں تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق نہیں کی بلکہ ایک طور سے انکار کیا کیونکہ لفظ حدیث کے یہ ہیں۔ حاشیه موحدین نام رکھوا کر شرم کرنی چاہئے ! جب مخلوق کو ( اور مخلوق بھی کا فرد جال! يا للعجب !) خدائی طاقتیں اور صفتیں حاصل ہو گئیں تو خالق اور مخلوق میں مابہ الامتیاز کیا رہا؟ افسوس یہ خشک مغز لفظ پر ست قوم کچھ بھی کلام الہی میں غور نہیں کرتی گویا انہیں کلام الہی سے کوئی انس و مناسبت ہی نہیں۔ توحید توحید زبان سے پکارتے ہیں اور سخت شرک میں گرفتار ہیں حضرت مسیح ایسے عبد ضعیف کو ۔ خالق ۔ شافی محی اور جی قیوم اعتقاد کر رکھا ہے!!۔اس پر غضب یہ کہ دوسرے تمام اسلامی فرقوں کو مبتدع اور مشرک کے سوائے اور کوئی لقب دینا گوارا نہیں کرتے ۔ مبار کی ہو اس برگزیدہ الہی اس مسیح موعود کو جس نے اصل سر توحید کا دنیا پر روشن کیا اور اقسام اقسام اشراک خفیہ سے اہل اسلام کو آگاہ کیا اور قرآن کریم کے نور سے منور ہو کر صفات باری تعالیٰ کے چشمہ کو شرک کے خس و خاشاک سے پاک وصاف فرمایا۔ اے اللہ ! اے میرے مولا ! مجھے اس کے خادموں میں شامل رکھ کر اس کی برکات سے مستفیض فرما! آمین ۔ ایڈیٹر الجن : ۲۷-۲۸