اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 110
11 + روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ ۱۰۸) سمجھ کر عمد اترک کیا ہے کیونکہ جس قدر کمالات قرآنیہ کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے وہ اہل کشف اور اہل باطن پر در حقیقت ظاہر ہو چکے ہیں اور ہوتے ہیں اور حارث کی روایت کی ہر ایک زمانہ میں تصدیق ہو رہی ہے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قرآن کریم بلاشبہ جامع حقائق و معارف اور ہر زمانہ کی بدعات کا مقابلہ کرنے والا ہے۔ اس عاجز کا سینہ اس کی چشم دید برکتوں اور حکمتوں سے پر ہے۔ میری روح گواہی دیتی ہے کہ حارث اس حدیث کے بیان کرنے میں بے شک سچا ہے بلاشبہ ہماری بھلائی اور ترقی علمی اور ہماری دائمی فتوحات کیلئے قرآن ہمیں دیا گیا ہے اور اس کے رموز اور اسرار غیر متناہی ہیں جو بعد تزکیہ نفس اشراق اور روشن ضمیری کے ذریعہ سے کھلتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے جس قوم کے ساتھ کبھی ہمیں ٹکرادیا اس قوم پر قرآن کے ذریعہ سے ہی ہم نے فتح پائی وہ جیسا ایک اُمی دیہاتی کی تسلی کرتا ہے ویسا ہی ایک فلسفی معقولی کو اطمینان بخشتا ہے یہ نہیں کہ وہ صرف ایک گروہ کیلئے اترا ہے دوسرا گروہ اس سے محروم رہے۔ بلاشبہ اس میں ہر یک شخص اور ہر یک زمانہ اور ہر پک استعداد کیلئے یک علاج موجود ہے۔ جو لوگ معکوس الخلقت اور ناقص الفطرت نہیں وہ قرآن کی ان عظمتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ان کے انوار سے مستفید ہوتے ہیں۔ جس حارث کے منہ سے ہمارے پیارے قرآن کی یہ تعریفیں نکلیں میں تو اس منہ کے قربان ہوں۔ آپ اس کو دجال سمجھیں تو آپ کا اختیار ہے۔ كل احد يؤخذ من قوله ويترك۔ رہی یہ بات کہ آپ نے میرا نام چور رکھا تو میں اپنا اور آپکا فیصلہ حوالہ بخدا کرتا ہوں ۔ اگر قرآن کے لئے میں چور کہلاؤں تو میری یہ سعادت ہے ۔ یہ تو ایک لفظ کی کمی کا نام سرقہ رکھا گیا ہے لیکن خدا وند کریم بہتر جانتا ہے کہ اس واقعی سرقہ یا اس کی اعانت کا مرتکب کون ہے جس کے ارتکاب سے ایک درم کی مالیت پر ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ فتفكر في سر هذا الكلام واخش الله المحاسب العلام - كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ اَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ قوله - احادیث صحیحین کے راوی تہمت فسق سے بری ہیں۔ سو آیت پیش کرنا جب کوئی فاسق خبر لا دے تو اس کی تفتیش کرو۔ آپ کی نا واقعی پر ایک دلیل ہے۔ اقول ۔ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ بخاری اور مسلم کے بعض راویوں پر تہمت اہل بدع ہونے کی کی بقية حاشيه بجمع من قتلى احد ثم يقول ايهما اخذًا للقرآن فاذا اشير له الى احد هما قدمه اللحد ( بخاری صفحہ ۱۰۰ ) اللہ اللہ ! آپ نے کس قدر رعایت اور عزت قرآن کی کی ہے۔ ایڈیٹر۔