اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 109

1+9 مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ امور زائدہ نہیں ہوتے بلکہ وحی متلو کے جو متن کی طرح ہے مفسر اور مبین ہوتے ہیں ۔ فتد ہو ۔ قولہ ۔ حدیث حارث اعور کی صحیح نہیں ہے اور یہ اعور بھی ایک دجال ہے۔ اقول ۔ افسوس کہ دجال کی حدیث اب تک مشکوۃ اور دوسری مقدس کتابوں میں درج ہوتی چلی آئی۔ آپ جیسے کسی بزرگ نے اس پر قلم نسخ نہ پھیرا۔ جس حالت میں وہ حدیث صریح جھوٹی ہے اور اسکا راوی دجال ہے ! تو وہ کیوں نہیں خارج کی جاتی ؟ میں نہیں جانتا کہ خبیث کو طیب سے کیا علاقہ ہے ! مگر اس حدیث کی ترک سے ہمارا کچھ نقصان نہیں۔ اس مضمون کے قریب چند حدیثیں بخاری میں بھی ہیں جیسا کہ کسی قدر تبدیل یا کمی بیشی الفاظ سے یہ حدیث بخاری میں موجود ے اور ہے ۔انـی تـرکـت فيكم ما ان تمسكتم به لن تضلو اكتاب الله و سنتی آپ سرقہ کا مجھ کو الزام دیتے ہیں حالانکہ میں نے فی الحارث مقال کے لفظ کو ایک جرح بے ہودہ حاشیه اس حدیث کی ہم معنی جو حدیثیں بخاری میں موجود ہیں از انجملہ ایک وہ حدیث ہے جو بخاری کی کتاب الاعتصام میں لکھی ہے اور وہ یہ ہے وهذا الكتاب الذى هدى الله به رسولكم فخذوا به تهتدوا ۔ ازاں جملہ یہ حدیث ہے و کان وقافًا عند كتاب الله صفحه ۱۷۹ از انجمله یہ حدیث ہے ما عندنا شيء الا كتاب ا الله از انجملہ یہ حدیث ہے ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل قضاء الله احق - صفحہ ۳۷۷- از انجملہ یہ حدیث ہے! اوصی بکتاب الله ۷۵۱۔ از انجملہ یہ حدیث ہے جو بخاری کے صفحہ ۱۷۲ میں ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخم کاری سے مجروح ہوئے تو صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے ان کے پاس گئے کہ ہائے میرے بھائی ۔ ہائے میرے دوست ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے صہیب مجھ پر تو روتا ہے کیا تجھے یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میت پر اسکے اہل کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے پھر جب حضرت عمر وفات پاگئے تو حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے یہ سب حال حدیث پیش کرنے کا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سنایا تو انہوں نے کہا کہ خدا عمر پر رحم کرے بخدا کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بیان نہیں فرمایا کہ مومن پر ا سکے اہل کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے اور فرمایا کہ تمہارے لئے قرآن کافی ہے۔ اللہ جل شانه فرماتا ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى لا یعنی حضرت عائشہ صدیقہ نے باوجود محدود علم کے فقط اسلئے قسم کھائی کہ اگر اس حدیث کے ایسے معنے کئے جائیں کہ خواہ نخواہ ہر ایک میت اسکے اہل کے رونے سے معذب ہوتی ہے تو یہ حدیث قرآن کے مخالف اور معارض ٹھہرے گی اور جو حدیث قرآن کے مخالف ہو وہ قبول کے لائق نہیں۔ کان النبي صلعم يجمع بين رجلين فاطر: ۱۹