اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 108

I+A مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ (۱۰۲) عرض کر لینا چاہئے۔ اگر کتاب اللہ نے ایک امر کی نسبت ایک فیصلہ ناطق اور مؤید دے دیا ہے جو قابل تغییر اور تبدیل نہیں تو پھر ایسی حدیث دائر و صحت سے خارج ہوگی جو ا سکے مخالف ہے۔ لیکن اگر کتاب اللہ فیصلہ مؤیدہ اور ناقابل تبدیل نہیں دیتی تو پھر اگر وہ حدیث قانون روایت کے رو سے صحیح ثابت ہو تو ماننے کے لائق ہے۔ غرض قرآن ایسی مجمل کتاب نہیں جو کبھی اور کسی صورت میں معیار کا کام نہ دے سکے۔ جس کا ایسا خیال ہے بے شک وہ سخت نادان ہے۔ بلکہ ایمان اس کا خطرہ کی حالت میں ہے اور حدیث انی اوتیت الکتاب و مثله سے آپ کے خیال کو کیا مدد پہنچ سکتی ہے؟ آپ کو معلوم نہیں کہ وحی متلو کا خاصہ ہے جو اس کے ساتھ تین چیزیں ضرور ہوتی ہیں خواہ وہ وحی رسول کی ہو یا نبی کی یا محدث کی۔ اول ۔ مکاشفات صحیحہ جو اخبارات اور بیانات وحی کو کشفی طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ گویا خبر کو معائنہ کر دیتے ہیں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بہشت اور دوزخ دکھلایا گیا جس کا قرآن کریم نے بیان کیا تھا۔ اور ان گزشتہ رسولوں سے ملاقات کرائی گئی جن کا قرآن حمید میں ذکر کیا گیا تھا۔ ایسا ہی بہت سی معاد کی خبر میں کشفی طور پر ظاہر کی گئیں۔ تا وہ علم جو قرآن کے ذریعہ سے دیا گیا تھا زیادہ تر انکشاف پکڑے اور موجب طمانیت اور سکینت کا ہو جائے۔ دوئم ۔ وحی متلو کے ساتھ رویائے صالحہ دی جاتی ہے جو نبی اور رسول اور محدث کیلئے ایک قسم کی وحی میں ہی داخل ہوتی ہے اور باوجود کشف کے رؤیا کی اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ تا علم استعارات کا جور و یا پر غالب ہے وحی یاب پر کھل جائے اور علوم تعبیر میں مہارت پیدا ہو اور تا کشف اور رؤیا اور وحی بباعث تعدد طرق کے ایک دوسرے پر شاہد ہوں اور اس وجہ سے نبی اللہ کمالات اور معارف یقینیہ کی طرف ترقی رکھے۔ سوئم ۔ وحی متلو کے ساتھ ایک خفی وحی عنایت ہوتی ہے جو تھہیمات الہیہ سے نامزد ہو سکتی ہے۔ یہی وحی ہے جس کو وحی غیر متلو کہتے ہیں اور متصوفہ اس کا نام وحی خفی اور وحی دل بھی رکھتے ہیں۔ اس وجی سے یہ غرض ہوتی ہے کہ بعض مجملات اور اشارات وحی متلو کے منزل علیہ پر ظاہر ہوں۔سو یہ وہ تینوں چیزیں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے او نیست الکتاب کے ساتھ مثلہ کا مصداق ہیں۔ اور ہر ایک رسول اور نبی اور محدث کو اس کی وحی کے ساتھ یہ تینوں چیزیں حسب مراتب اپنی اپنی حالت قرب کے دی جاتی ہیں چنانچہ اس بارے میں راقم تقریر هذا صاحب تجربہ ہے یہ مؤیدات ثلاثہ یعنی کشف اور دیا اور وحی خفی در اصل لا حاشيه مولوی صاحب ایسے ولی اللہ کے مقابلہ کیلئے آپ نے کمر کسی ہوئی ہے! مولوی صاحب اہل ظن اور صاحب یقین برابر نہیں ہو سکتے ۔ وقت ہے ۔ باز آ جائیے۔ ورنہ دانت پیسنا اور رونا ہوگا۔ ایڈیٹر