اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 106

روحانی خزائن جلد ۴ 1+4 مباحثہ لدھیانہ ۱۰۴ اقول ۔ حضرت یہ قصہ آپ نے ناحق چھیڑ دیا۔ میں کہتے کہتے تھک بھی گیا کہ حصہ اول کی حدیثیں جو احکام دین اور تعلیم دین اور فرائض اور حدود اسلام کے متعلق ہیں جن کا سلسلہ تعامل سے کثیر یا قلیل طور پر تمدن مذہبی میں ایک لازمی طور پر تعلق پڑا ہوا ہے وہ میری بحث سے خارج ہیں۔ بلکہ میری بحث سے خاص طور پر وہ امور علاقہ رکھتے ہیں جن کو نسخ اور کمی اور زیادت سے کچھ تعلق نہیں جیسے اخبارات۔ واقعات قصص لیکن آپ نے ہرگز میرے مدعا کو نہ سمجھا اور ناحق کا غذات کو سیاہ کر کے چند پیسوں کا نقصان کیا۔ باوجود اس کے میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قرآن ناقص ہے اور حدیث کا محتاج ہے بلکہ وہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُم لے کا تاج لازوال اپنے سر پر رکھتا ہے اور تبیانا لکل شی ء کے وسیع اور مرصع تخت پر جلوہ افروز ہے۔ قرآن میں نقصان ہرگز نہیں اور وہ داغ نا تمام اور ناقص ہونے سے پاک ہے لیکن تقاصر افہام کی وجہ سے اس کے اسرار عالیہ تک ہر ایک فہم کی رسائی نہیں! ولنعم ماقیل۔ وكل العلم في القرآن لكن تقاصر منه افهام الرجال خود نبی صلعم نے بوحی الہی استنباط احکام قرآن کر کے قرآن ہی سے یہ مسائل زائدہ لئے ہیں جس حالت میں قرآن کریم صاف ظاہر کرتا ہے کہ کل خبائث حرام کئے گئے تو کیا آپ کے نزدیک درندے اور گدھے طیبات میں سے ہیں؟ جن کے حرام کرنے کیلئے کسی حدیث کی واقعی طور پر ضرورت تھی ! گدھے کی مذمت خود اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ اِنَّ اَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ : پھر جو اس کی نظر میں کسی وجہ سے منکر اور مکروہ اور خبائث میں داخل ہے وہ کس طرح حلال ہو جاتا ؟ اور تمام درندے بد بو سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ چڑیا گھر میں جا کر دیکھو کہ شیر اور بھیٹر یا اور چیتا وغیرہ اس قدر بد بور رکھتے ہیں کہ پاس کھڑا ہونا مشکل ہوتا ہے! پھر اگر یہ خبائث میں داخل نہیں ہیں تو اور کیا ہیں؟ اسی طرح میں آپ کی ہر ایک حدیث پیش کردہ کا جو احکام زائدہ کے بارہ میں آپ نے لکھی ہے جواب دے سکتا ہوں اور قرآن سے انکا منبع دکھلا سکتا ہوں مگر یہ باتیں بھی بحث سے خارج ہیں۔ میں نے آپ کو کب اور کس وقت کہا تھا کہ سنن متوارثہ متعاملہ اور ایسے احکام جو تعامل کے سلسلہ مستمرہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بنظر ظاہر حدیثوں کو ان کے منسوخ یا زیادہ کرنے میں دخل نہیں۔ افسوس آتا ہے کہ آپ نے ناحق بات کو طول دے کر اپنے اور لوگوں کے اوقات کا خون کیا۔ حضرت پہلے سمجھ تو لیا ہوتا کہ میرا مدعا کیا ہے جس بات کو میں نے نشانہ رکھ کر یعنی وفات حیات مسیح کے مسئلہ کو ۔ یہ تقریر پیش کی تھی۔ افسوس کہ اس بات کی طرف بھی آپ کو خیال نہ آیا کہ وہ منجملہ اخبار ہے یا از قبیل احکام ہے۔ آئندہ المائدة : ۲۴ لقمان: ۲۰