اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 105

۱۰۵ روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ کائی جانتا ہوں۔ اگر میرا یہی مذہب ہوتا تو میں کیوں کہتا کہ میں نلنی طور پر صحیحین کو بیچ سمجھتا ہوں اور جن (۱۰۳) حدیثوں کے ساتھ تعامل کا سلسلہ قرنا بعد قرن پایا جاتا ہے۔ ان کو نہ صرف فلنی بلکہ حسب مراتب تعلق تعامل قطعیت کے رنگ سے رنگین خیال کرتا ہوں! ۔ اور اگر چہ میں دوسرے حصہ احادیث کو فلنی طور پر صحیح خیال کرتا ہوں لیکن اگر ان کی صحت پر قرآن کی شہادت ہے تو وہ صحت ظن قوی ہو جاتا ہے۔ مگر جب کہ قرآن کریم صریح اس کے مخالف ہو اور تطبیق کی کوئی راہ نہ ہو تو میں ایسی حدیث کو جو حصہ دوم کی قسم میں سے ہے قبول نہیں کرتا کیونکہ اگر میں قبول کرلوں تو پھر قرآن کی خبر کو مجھے منسوخ ماننا پڑے گا۔ مثلا قرآن نے خبر دی ہے کہ سلیمان داؤد کا بیٹا تھا اور اسحاق ابراہیم کا اور یعقوب اسحاق کا۔ اب اگر کوئی حدیث اس کے مخالف ہے اور یہ بیان کرے کہ داؤ د سلیمان کا بیٹا تھا اور ابراہیم لاولد تھا میں کیونکر سمجھ لوں کہ جو کچھ قرآن نے فرمایا تھا وہ منسوخ ہو گیا ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ تاریخی واقعات اور اخبار وغیرہ پر ہرگز شیخ وارد نہیں ہوتا ورنہ اس سے خدا تعالی کا کذب لازم آتا ہے ! سو میں یہ تو نہیں کہتا کہ صحت حدیث کیلئے قانون روایت کی حاجت نہیں۔ ہاں یہ میں ضرور کہتا ہوں کہ جب اس قانون کے استعمال کے بعد کوئی روایت حدیث نبوی کے نام سے موسوم ہو۔ پھر اگر وہ احادیث کے حصہ دوم میں سے ہے تو اس کی تکمیل صحت کیلئے یہ ضروری ہے کہ تصریحات قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔ قولہ ۔ جو آپ نے کہا ہے کہ قرآن کریم اپنا آپ مفسر ہے حدیث اسکی مفسر نہیں ۔ اس سے بھی آپکی نا واقفیت اصول اسلام سے ثابت ہوتی ہے۔ اقول ۔اے حضرت آپ نے اس قدر افتراؤں پر کیوں کمر باندھ لی ہے میں نے کہاں اور کس جگہ لکھا ہے کہ حدیث قرآن کی مفسر نہیں۔ میں نے تو بحوالہ آیت اس قدر بیان کیا ہے کہ اول مفسر قرآن کا خود قرآن ہے پھر بعد اسکے نمبر دوم پر حدیث مفسر ہے اس سے میرا یہ مطلب تھا کہ حدیث کی تفسیر دیکھنے کے وقت قرآن کی تفسیر نظر انداز نہ ہو اور اگر کوئی ایسا مسئلہ ہو جو حدیث کے دونوں حصوں میں سے حصہ دوم میں داخل ہو یعنی اخبار و واقعات وغیرہ میں سے جس سے نسخ معلوم نہیں ہوسکتا اور نہ اس پر زیادت متصور ہے تو ایسی صورت میں کسی مجمل آیت کی وہ تفسیر مقدم اور قابل اعتبار ٹھہرے گی جو قرآن نے آپ فرمائی ہے اور اگر حدیث کی تفسیر اس تفسیر کے مخالف ہو تو قبول کے لائق نہیں ہوگی۔ قوله - آیت قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَى مُحَرَّمَا عَلَى طَاعِهِ يَطْعَمُةٌ إِلَّا أَنْ يَكُوْنَ مينة أو دَمًا منقوحا صاف دلالت کرتی ہے کہ قرآن میں صرف یہ چند چیزیں حرام کی گئی ہیں۔ لیکن حدیث کے رو سے گدھا اور درندے بھی حرام کر دئیے گئے ۔ الانعام : ۱۴۶