اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 104

۱۰۴ مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد۴ ۱۰۲ تو میں تاوان کے طور پر آپ کو پچیس روپیہ نقد دوں گا اور نیز مدت العمر تک آپکے کمالات کا قائل ہو جاؤں گا اور اپنا مغلوب اور شکست یافتہ ہونا قبول کرلوں گا اور بباعث اس کے جو مجھ سے پچپیس روپیہ بطور تاوان لئے جائیں گے ۔ آپ کے کمالات حدیث وانی کے بخوبی نقش قلوب ہو جائیں گے اور ہمیشہ صفحہ روزگار میں عزت کے ساتھ یادگار رہیں گے لیکن اس میں انتظام یہ چاہئے کہ تین منصف بتراضی فریقین مقرر کئے جائیں جو فہم تقریر اور وزن دلائل کا مادہ رکھتے ہوں اور فریقین سے کسی قسم کا تعلق ان کو نہ ہو۔ نہ رشتہ۔ نہ مذہب ۔ نہ دوستی اور اگر من بعد تعلق ثابت ہو تو وہ فیصلہ فسخ کیا جائے ورنہ فیصلہ ناطق قرار دے کر بحالت غالب ہونے پچیس روپیہ آپکے حوالے کر دئیے جائیں ۔لیکن منصفوں کی آزمائش لیاقت کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ اخیری روبکار کی طرح فیصلہ تحریری بوجوہات شافیہ قلمبند کر کے فریقین کو جلسہ عام میں سنادیں اور ادلہ قطعیہ سے اس فریق کا غالب ہونا اپنے فیصلہ میں ظاہر کریں۔ جس کو اپنی رائے میں انہوں نے غالب سمجھا ہے یہ شرائط کچھ مشکل نہیں ہیں۔ ایسی لیاقت کے بہت آدمی ہیں بالخصوص ایسے حکام جن کو ہر وقت فیصلجات دینے کی مشق ہے اور ثابت اور غیر ثابت میں تمیز کرنے کا ملکہ ہے بڑی آسانی سے منصفی کیلئے پیدا ہو سکتے ہیں اور اگر آپ کو منصفوں کے فیصلہ کی نسبت پھر بھی کچھ دل میں دھڑ کا رہے تو منصفوں کیلئے حلف کی قید بھی لگا سکتے ہیں۔ اب اگر آپ میری اس درخواست سے گریز کریں گے تو پھر بلاشبہ آپکے وہ سب دعاوی فضول قرار پا کر وہ تمام توہین و تحقیر اور بنک کی باتیں جو آپ نے اس عاجز کی نسبت اپنی تحریرات میں خود نمائی کی غرض سے کی ہیں آپ پر وارد کبھی جائیں گی۔ تحریر کے ذریعہ سے ایک ہفتہ تک آپ اس کا جواب دیں۔ قوله - اگر صرف قرآن سے مضمون کسی حدیث کا موافق ہونا اس کی صحت کا موجب ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ موضوع حدیثیں اگر ان کے مضامین صادق اور قرآن کے مطابق ہوں صحیح متصور ہوں۔ اقول ۔ حضرت یہ آپ نے میری کس عبارت سے نکالا ہے کہ میں قانون روایت محدثین کو بے مصرف اور فضول خیال کر کے اول حالت سے ہی ہر ایک بے سند قول کیلئے تصدیق قرآن کریم کو حدیث بنانے کیلئے اور مکی علیہ السلام کے حق میں فرماتا ہے وَسَلِّمُ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ ے پس اگر یوم تولد مس شیطان کا یوم ہے تو سلام کا لفظ جو سلامتی پر دلالت کرتا ہے کیونکر اس پر صادق آ سکتا ہے۔ پھر علامہ زمخشری نے تاویل کی ہے کہ اگر مریم اور ابن مریم سے مراد خاص یہی دونو نہ رکھے جائیں بلکہ ہر ایک شخص جو مریم اور ابن مریم کی صفت اپنے اندر رکھتا ہے اس کو بھی مریم اور ابن مریم ہی قرار دیا جاوے تو پھر اس حدیث کے معنے بلاشبہ صحیح ہو جائیں گے۔فافهم و تدبر ۔ ایڈیٹر مریم : ۱۶