اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 100

روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ (۹۸) احادیث کا معیار نہیں کیونکہ صاحب تلویح نے آپکو اس بارہ میں جھوٹا ٹھہرایا ہے! اور تینوں امام اسی رائے میں آپکے مخالف ہیں! اور میں بیان کر چکا ہوں کہ میرا مذ ہب بھی اسی قدر ہے کہ باستثناء سفن متوارثہ متعاملہ کے جو احکام اور فرائض اور حدود کے متعلق ہیں باقی دوسرے حصہ کی احادیث میں سے جو اخبار اور قصص اور واقعات ہیں جن پر نسخ بھی وارد نہیں ہوتا اگر کوئی حدیث نصوص بینہ قطعیہ صريحة الدلالت قرآن کریم سے صریح مخالف واقع ہو گو وہ بخاری کی ہو یا مسلم کی میں ہرگز اس کی اس طرز کے معنی کو جس سے مخالفت قرآن لازم آتی ہے قبول نہیں کروں گا۔ میں بار بار اپنے مذہب کو اس لئے بیان کرتا ہوں کہ تا آپ اپنی عادت کے موافق پھر کوئی تازہ افترا اور بہتان میرے پر نہ لگاویں اور نہ لگانے کی گنجائش ہو * اور ظاہر ہے کہ یہ میرا مذہب امام شافعی اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے مذہب کی نسبت حدیث کی بہت رعایت رکھنے والا ہے کیونکہ میں صحیحین کی خبر واحد کو بھی جو تعامل کے سلسلہ سے موکد ہے اور احکام اور حدود اور فرائض میں سے ہو نہ حصہ دوم میں سے اس لائق قرار دیتا ہوں کہ قرآن پر اس سے زیادتی کی جائے اور یہ مذہب ائمہ ثلاثہ کا نہیں مگر یادر ہے کہ میں واقعی زیادتی کا قائل نہیں بلکہ میرا ایمان انا انزلنا الكتاب تبیان الکل شیء پر ہے جیسا کہ میں ظاہر کر چکا ہوں۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں اس مذہب میں اکیلا نہیں ہوں بلکہ اپنے ساتھ کم سے کم تین یار غالب رکھتا ہوں جن کا عقیدہ میرے موافق بلکہ مجھ سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ قوله ۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے احادیث بخاری کو چھوڑ دیا یہ بھی عامیانہ بات ہے۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ امام اعظم کب ہوئے اور صحیح بخاری کب لکھی گئی ۔ اقول ۔ جناب مولوی صاحب آپ ایمان کے ساتھ جواب دیں کہ میں نے کب اور کہاں لکھا ہے کہ صحیح بخاری امام اعظم رحمتہ اللہ کے زمانے میں موجود تھی ؟ ان فضول مفتر یا نہ تحریروں سے آپ کی صرف یہ غرض ہے کہ عوام کے سامنے ہر یک بات میں اس عاجز کی نیکی حاشیه صفحه ۹۹ حاشیه کیونکہ اگر یہ مدونات ان کے روبرو ہوتیں تو انہیں اپنا عقیدہ اور مسلمہ قاعدہ ان کتابوں کی مخالف الکتاب احادیث پر (اگر ہوں ) جاری کرنے میں کون مانع ہو سکتا تھا۔ حضرت مرشد نا آپ ہزار پیش بندیاں کیا کریں۔ سو سو بار امیر پھیر کر اپنا مطلب بیان کریں۔ دلیر مولوی صاحب کب افتر ا سے باز آنے والے ہیں۔ ایڈیٹر۔