اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 92
۹۲ روحانی خزائن جلد۴ مباحثہ لدھیانہ (۹۰) الفاظ کافی نہیں بلکہ اس صورت میں تو الفاظ میں بھی شک پڑتا ہے کہ شاید اختلال دماغ کے سبب سے اس میں بھی کچھ تصرف ہو گیا اور قرآن کریم کے معیار بنانے سے آپ کیوں چڑتے ہیں؟ جب کہ قرآن حق و باطل میں فرق کرنے کیلئے آیا ہے۔ پھر اگر وہ معیار نہیں تو اور کیا ہے ؟ بلاشبہ قرآن کریم تمام صداقتوں پر حاوی ہے اور تمام علوم میں جہاں تک صحت سے ان کو تعلق ہے قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں لیکن وہ عظمتیں اور وہ کمالات جو قرآن میں ہیں مطہرین پر کھلتے ہیں جن کو وحی الہی سے مشرف کیا جاتا ہے اور ہر ایک شخص تب مومن بنتا ہے کہ جب سچے دل سے اس بات کا اقرار کرے کہ در حقیقت قرآن کریم احادیث کیلئے جو راویوں کے دخل سے جمع کی گئی ہیں معیار ہے۔ گو اس معیار کے تمام استعمال پر عوام کو نیمی قدرت حاصل نہیں صرف اخص لوگوں کو حاصل ہے لیکن قدرت کا حاصل نہ ہونا اور چیز ہے اور ایک چیز کا ایک چیز کیلئے واقعی طور پر معیار ہونا یہ اور امر ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ جو صفات اللہ جل شانہ نے قرآن کریم کیلئے آپ بیان فرمائی ہیں کیا ان پر ایمان لانا فرض ہے یا نہیں ؟ اور اگر فرض ہے تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا اس سبحانہ نے قرآن کریم کا نام عام طور پر قول فصل اور فرقان اور میزان اور امام اور حکم اور نور نہیں رکھا؟ اور کیا اس کو جمیع اختلافات کے دور کرنے کا آلہ نہیں ٹھہرایا؟ اور کیا یہ نہیں فرمایا کہ اس میں ہر ایک چیز کی تفصیل ہے؟ اور ہر یک امر کا بیان ہے اور کیا یہ نہیں لکھا کہ اس کے فیصلہ کے مخالف کوئی حدیث ماننے کے لائق نہیں؟ اور اگر یہ سب باتیں سچ ہیں تو کیا مومن کیلئے ضروری نہیں جو ان پر ایمان لاوے اور زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرے؟ اور واقعی طور پر اپنا یہ اعتقاد رکھے کہ حقیقت میں قرآن کریم معیار اور حکم اور امام ہے۔لیکن محجوب لوگ قرآن کریم کے دقیق اشارات اور اسرار کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے اور اس سے مسائل شرعیہ کا استنباط اور استخراج کرنے پر قادر نہیں اس لئے وہ احادیث صحیحہ نبویہ کو اس نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ گویا وہ قرآن کریم پر کچھ زواید بیان کرتی ہیں یا بعض احکام میں اس کی ناسخ ہیں ۔ اور نہ زواید بیان کرتی ہیں بلکہ قرآن شریف کے بعض مجمل اشارات کی شارح ہیں۔ قرآن کریم آپ فرماتا ہے۔ مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَاتِ بِخَيْرِ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ے یعنی کوئی آیت ہم منسوخ یا منسی نہیں کرتے جس کے عوض دوسری آیت ویسی ہی یا اس سے بہتر نہیں لاتے ۔ پس اس آیت میں قرآن کریم نے صاف فرمادیا ہے کہ نسخ آیت کا آیت سے ہی ہوتا ہے اسی وجہ سے وعدہ دیا ہے کہ شیخ کے بعد ضرور آیت منسوخہ کی جگہ آیت نازل ہوتی ہے ہاں علماء نے مسامحت کی راہ سے بعض احادیث کو بعض آیات کی ناسخ ٹھہرایا ہے جیسا کہ حنفی فقہ کے رو سے مشہور حدیث سے آیت البقرة: ١٠٧