اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 90
۹۰ مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ ۸۸ ہیں جو تم فن حدیث سے محض نا آشنا ہو کچھ آپ پر افسوس نہیں کرتا کیونکہ جس حالت میں آپ اس استخفاف کی عادت سے ایسے مجبور ہیں کہ امام بزرگ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی جنہوں نے بعض تا بعین کو بھی دیکھا تھا اور جو علم دین کے ایک دریا تھے آپ کی تحقیر سے بیچ نہیں سکے * اور آپ نے ان کی نسبت بھی کہہ دیا کہ باوجود قرب مکان اور زمان حدیث نبوی کے پانے سے محروم رہے اور نا چاری سے قیاسی انکلوں پر گزارہ رہا تو پھر اگر مجھے علم کی (جس پر بوجہ امتداد زمانہ اور اختلافات فرق اور بنی عباس اور بنی امیہ بنی فاطمہ کی باہمی خانہ جنگیوں اور بغض و معاندت کی سخت تاریکی چھا گئی تھی) تحقیق و تنقید کیلئے جودت فہم سے نہ الہام الہی اور وحی سے اصول اور قواعد تراشے۔ بنا بر آں ہرگز ضروری نہیں کہ ایک مؤید من اللہ اور مہم اور صاحب الوحی شخص کو انکی پابندی لازمی ہو۔ ایڈیٹر حاشیه ٹھیک اسی طرح پر جس طرح جناب مسیح علیہ السلام کی نسبت سنگدل یہود نے نہایت حقارت سے ذکر کرنا اور ان پر نا گفتہ بہ الزامات لگانے کا سلسلہ جاری کر رکھا تھا اور کوئی بھی صاحب بصیرت اور غیرت کا حامی ایسا نہ تھا جو جناب روح اللہ کی عزت و آبرو کو ان بے ایمانوں کے ہاتھ سے بچانے کی کوشش کرتا اور آخر کار بنی آدم کا ایک حقیقی خیر خواہ اور تمام راستبازوں کا زبردست حامی (اللهم صل عليه وعلى آله واجعلني فداه ووفقنى لاشاعة ماجاء به صَلَّى الله علیه وسلم) دنیا میں آیا جس نے وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ لے کی بشارت سنا کر ان کی کھوئی ہوئی عزت کو پھر بحال کیا۔ امام ابوحنیفہ کی سخت بے عزتی سخت حقارت سخت ہتک اس سنگدل ۔ خشک اور بے مغز گروه (غیر مقلدین) نے اپنی تحریرات و تقریرات میں کی ۔ ان کے علم وفضل ۔ ان کی کتاب وسنت کی واقفیت پر بڑی جرات سے نکتہ چینیاں کیں ۔ آخر اسی احمد - محمد (عليه افضل الصلوات و التسلیمات ) کا خادم اور سچا خادم آیا اور ایک خدا کے برگزیدہ بندے۔ حقیقی متبع السنہ کی عزت و آبرو کو چند بے باک شوخوں شیخوں کی دست برد سے بچایا۔ اور یہ بات قدرتی طور پر اس لئے ہوئی کہ اس مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت امام ہمام ابو حنیفہ سے ایک زبر دست مشابہت اور تامہ ملا بست ہے کیونکہ جناب امام رحمۃ اللہ بھی قرآن کریم سے استنباط و استخراج مسائل کے کرنے میں ممتاز ملکہ اور خاص خداداد استعداد رکھتے تھے اور تابمقدور تمام مسائل و واقعات پیش آمدہ کا مدار و مناط قرآن کریم ہی کو بناتے تھے اور بہت کم اور نہایت ہی کم احادیث کی طرف بوجہ ان کے غیر محفوظ ہونے اور اضطراب و ضعف کے توجہ کرتے تھے۔ ایسا ہی ہمارے مرشد و ہادی حضرت مرزا صاحب بھی قرآن کریم سے دقائق و معارف اور علوم الہیہ کے استنباط کرنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں اور قرآن کے ساتھ جو شرک کیا گیا ہے۔ آل عمران: ۴۶