اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 77
روحانی خزائن جلد ۴۔ LL مباحثہ لدھیانہ و پیرایہ میں آپ نے فرمایا ہوا شارہ ہو تو اشارۃ صراحۃ ہو تو صراحۃ آنحضرت نے فرمایا۔ اتقوا عنی ۷۵ الا ما علمتم فمن كذب على متعمدا فليتبوء مقعدہ من النار آپ کی کتب حدیث میں اگر نظر ہو تو آپکو معلوم ہو کہ آنحضرت کے اصحاب آپ سے کوئی ایسا لفظ نقل نہ کرتے جو آپ نے نہ فرمایا ہوتا اور اگر ان کو اصل لفظ حضرت رسالت میں شک واقع ہو جاتا تو شک و تردد کے ساتھ الفاظ بیان کرتے آپ نے باوجود یکہ آپ کو یہ علم نہ تھا کہ آنحضرت صلعم نے وہ الفاظ فرمائے ہیں جو آپ نے نقل کئے ہیں اور اب تک اس کا علم پر یقین نہیں صرف خیالی احتمال ہے پھر آپ نے اس لفظ کو آنحضرت کی طرف منسوب کیا تو بجز افتر احمدی اور کیا ہو سکتا ہے۔ آنحضرت کے ابن صیاد کے ڈرنے کو احتمالی کون کہتا ہے۔ وہ ہمیشہ اس سے اور اصحاب اس امر کو ملاحظہ کرتے تب ہی ایک صحابی نے یہ کہہ دیا کہ ہمیشہ آنحضرت ڈرتے تھے لفظ ہمیشہ ( مـــــالـــم یزل ) کو یہ لازم نہیں ہے کہ آپ زبان سے بھی یہ فرمادیا کرتے کہ میں ڈرتا ہوں۔ پہلے انبیاء اور آنحضرت صلعم اجمعین نے بے شک دجال موعود سے ڈرایا ہے مگر اس سے یہ نکالنا کہ آپ نے ابن صیاد کو دجال کہہ کر ڈرایا ہے آنحضرت پر ایک اور افترا ہے دجال سے ڈرانا ابن صیاد سے ڈرانا نہیں ہے خدا سے ڈرو آ نحضرت پر افترا نہ کرتے جاؤ۔ تیاری دہلی کی مثال میں آپ نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے ایک شخص کو دس برس سے اگر کوئی دیکھے کہ وہ وقتا فوقتا دیلی کا ٹکٹ خرید کر واپس کر آتا ہے اور ایسی حالت میں آخری برس تک وہ رہا ہے تو اس کی نسبت یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ دس برس سے تیار ہے۔ گو تیاری کا حرف کبھی زبان پر نہ لاوے ہم سے ایک اور مثال سنیئے ایک شخص مدت العمر نمازوں اور دعاؤں میں زاری کرتا رہے احکام شریعت کا پابند ہو خدا کا اور بندوں کا حق تلف نہ کرے اس کی نسبت کس و ناکس بشر طیکہ فاتر الحواس نہ ہو یہ کہہ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے گو وہ منہ سے بھی نہ کہے کہ میں خدا سے ڈرتا ہوں۔ ایک احتمال کے مقابل دوسرا احتمال ہو تو مدعی کو اس سے استدلال درست نہیں ہے اس کے خصم منکر کو پہنچتا ہے کہ وہ اس احتمال سے تمسک کر کے بحکم اذاجاء الاحتمال بطل الاستدلال ۔ مدعی کے استدلال کو توڑ دے۔ آپ اس امر سے ناواقف ہیں تب ہی مدعی ہو کر احتمال سے استدلال کرتے ہیں۔ افترا آپ کی قدیم سنت ہے ان افتراؤں کے علاوہ جو ثابت کئے گئے ہیں آپ نے رسالہ ازالہ کے صفحہ ۲۰۱ حاشیه لے کیا اسی وقت سے جب کہ آپ نے ان کو ولی اللہ ملہم۔ مجدد اور محدث مانا اور ان کی بے مثل کتاب البراہین کی اخص