اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 77
روحانی خزائن جلد ۴ 44 مباحثہ لدھیانہ و پیرا یہ میں آپ نے فرمایا ہوا شارہ ہو تو اشارہ صراحت ہو تو صراحہ آنحضرت نے فرمایا ۔ اتقوا عنی ﴿۵﴾ الا ما علمتم فمن كذب على متعمدا فليتبوء مقعده من النار آپ کی کتب حدیث میں اگر نظر ہو تو آپکو معلوم ہو کہ آنحضرت کے اصحاب آپ سے کوئی ایسا لفظ نقل نہ کرتے جو آپ نے نہ فرمایا ہوتا اور اگر ان کو اصل لفظ حضرت رسالت میں شک واقع ہو جاتا تو شک وتر دو کے ساتھ الفاظ بیان کرتے آپ نے باوجود یکہ آپ کو یہ علم نہ تھا کہ آنحضرت صلعم نے وہ الفاظ فرمائے ہیں جو آپ نے نقل کئے ہیں اور اب تک اس کا علم پر یقین نہیں صرف خیالی احتمال ہے پھر آپ نے اس لفظ کو آنحضرت کی طرف منسوب کیا تو بجز افتر اعمدی اور کیا ہو سکتا ہے۔ آنحضرت کے ابن صیاد کے ڈرنے کو احتمالی کون کہتا ہے ۔ وہ ہمیشہ اس سے اور اصحاب اس امر کو ملاحظہ کرتے تب ہی ایک صحابی نے یہ کہہ دیا کہ ہمیشہ آنحضرت ڈرتے تھے لفظ ہمیشہ ( مـــــالـــم یزل ) کو یہ لازم نہیں ہے کہ آپ زبان سے بھی یہ فرمادیا کرتے کہ میں ڈرتا ہوں ۔ پہلے انبیاء اور آنحضرت صلعم اجمعین نے بے شک دجال موعود سے ڈرایا ہے مگر اس سے یہ نکالنا کہ آپ نے ابن صیاد کو دجال کہہ کر ڈرایا ہے آنحضرت پر ایک اور افترا ہے دجال سے ڈرانا ابن صیاد سے ڈرانا نہیں ہے خدا سے ڈرو آنحضرت پر افترانہ کرتے جاؤ۔ تیاری دہلی کی مثال میں آپ نے مسلمانوں کو دھو کہ دیا ہے ایک شخص کو دس برس سے اگر کوئی دیکھے کہ وہ وقتا فوقتا د ہلی کا ٹکٹ خرید کر واپس کر آتا ہے اور ایسی حالت میں آخری برس تک وہ رہا ہے تو اس کی نسبت یہ کہ سکتا ہے کہ وہ دس برس سے تیار ہے۔ گو تیاری کا حرف کبھی زبان پر نہ لاوے ہم سے ایک اور مثال سنیئے ایک شخص مدت العمر نمازوں اور دعاؤں میں زاری کرتا رہے احکام شریعت کا پابند ہو خدا کا اور بندوں کا حق تلف نہ کرے اس کی نسبت کس و ناکس بشرطیکہ فاتر الحواس نہ ہو یہ کہہ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے گو وہ منہ سے کبھی نہ کہے کہ میں خدا سے ڈرتا ہوں۔ ایک احتمال کے مقابل دوسرا احتمال ہو تو مدعی کو اس سے استدلال درست نہیں ہے اس کے خصم منکر کو پہنچتا ہے کہ وہ اس احتمال سے تمسک کر کے بحکم اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال ۔ مدعی کے استدلال کو توڑ دے۔ آپ اس امر سے نا واقف ہیں تب ہی مدعی ہو کر احتمال سے استدلال کرتے ہیں۔ افترا آ پکی قدیم سنت ہے ان افتراؤں کے علاوہ جو ثابت کئے گئے ہیں آپ نے رسالہ ازالہ کے صفحہ ۲۰۱ لے کیا اسی وقت سے جب کہ آپ نے ان کو ولی اللہ ماہم مجد اور حدث مانا اور ان کی بے مثل کتاب البراہین کی اخص