اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 78
ZA مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ میں حدیث كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم و امامکم منکم کا ترجمہ کیا تو اس میں اس سوال و جواب کا رسول اللہ صلعم پر افترا کیا ہے کہ ابن مریم کون ہے وہ تمہارا ہی ایک امام ہوگا اور تم میں سے ہی (اے امتی لوگو ) پیدا ہوگا۔ آپ نے عمد رسول اللہ پر یہ افتر انہیں کیا تو بتائیں کس حدیث کے کس طریق یا وجہ میں یہ سوال وجواب وارد ہیں۔ رسالہ ازالہ کے صفحہ ۲۱۸ میں آپ نے دجال موعود کے محل نزول میں اختلاف علماء بیان کیا تو اس میں علماء اسلام پر یہ افترا کیا کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ نہ بیت المقدس میں اترے گا نہ دمشق میں بلکہ مسلمانوں کے لشکر میں اترے گا۔ آپ اس قول کے بیان میں مفتری نہیں تو بتادیں کہ کس عالم کا یہ قول ہے کہ وہ نہ بیت المقدس میں اتریں گے نہ دمشق میں۔ آپ کے ان افتراؤں سے کامل یقین ہوتا ہے کہ آپ کسی الہام کے دعوئی میں بچے نہیں اور جو تار و پود آپ نے پھیلا رکھا ہے سب افترا ہے۔ (۹) آپ لکھتے ہیں کہ آپ بخاری بخاری کرتے ہیں اور بخاری کی یہ حدیث اپنے رسالہ میں نقل کر چکے ہیں کہ محدث کی بات میں شیطان کا کچھ دخل نہیں ہوتا۔ بخاری پر آپ کا ایمان ہے تو اس حدیث کی تسلیم سے ابن عربی کا قول آپ کے نزدیک مسلم ہے پھر میں نے آپ پر کیا افترا کیا۔ اس میں آپ نے مجھ پر ایک اور افترا کیا اور مسلمانوں کو دھو کہ دیا ۔ مہربان من میں صحیح بخاری کو تسلیم کرتا ہوں اور اس حدیث پر جو صحیح بخاری میں محدث کے شان میں مروی ہے میں ایمان رکھتا ہوں ومع ھذا یہ اعتقاد رکھتا ہوں کہ جو شخص محدث کہلا دے اور صحیح بخاری یا صحیح مسلم کی احادیث کو بشبادت الہام خود موضوع قرار دے وہ محدث نہیں ہے ۔ شیطان کی طرف سے مخاطب ہے واقعی محدث و ملہم وہی شخص ہے جس کے تحدیث والہام قدیم قرآن مجید و احادیث صحیحہ کے مخالف نہ ہو اور جو شخص محدث یا ملہم ہونے کا دعوی کرے اور اس کے ساتھ یہ کہے کہ مجھے فرشتوں نے کیا ہے یا خدا نے الہام کیا یا رسول اللہ صلعم نے فرمایا ہے برکات میں شامل ہونے کیلئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی ؟ دیکھور یو یو براہین کا آخری حصہ شیخ صاحب بقیه حاشیه بقول شیخ سعدی بڑی سبک سری اور دنائت ہے:۔ جو باندک تغیر خاطر از مخدوم قدیم برگشتن و حقوق نعمت سالها در نوشتن شیخ صاحب ایسی ضد سے باز آ جاؤ ۔ ایڈیٹر