اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 68

روحانی خزائن جلد ۴ ۶۸ مباحثہ لدھیانہ سے یہ بھی منقول ہے کہ مجھے دولاکھ حدیثیں غیر صحیح اور ایک لاکھ صحیح یاد ہیں ۔ باوجود یکہ صحیح بخاری میں چار ہزار حدیثیں منقول ہیں جس سے ثابت ہے کہ چھیا نویں ہزار حدیث اور امام بخاری کے نزدیک صحیح ہیں جن کو وہ اپنی کتاب میں نہیں لائے۔ وجملة ما في الصحيح البخاري من الاحاديث المسندة سبعة الاف ومئتان و خمسة و سبعون حديثا بالاحاديث المكررة و بحذف المكررة نحو اربعة الاف كذا ذكر النووي في التهذيب والحافظ بن حجر في مقدمة فتح الباری۔ شیخ عبدالحق نے مقدمہ شرح مشکوۃ میں کہا ہے و نقل عن البخارى انه قال حفظت من الصحاح مائة الف حديث ومن غير الصحاح مأتی الف ۔اس سے صاف ثابت ہے کہ امام بقیه حاشیه بخاری کا کسی حدیث صحیح کی روایت کو ترک کرنا اس امر کا مثبت نہیں ہے کہ انہوں نے اس کو ضعیف قرار دیا۔ امام بخاری کا ترک روایت حدیث مسلم کیونکر موجب ضعف ہو۔ امام مسلم نے خود اپنی کتاب میں بہت سی احادیث کو جن کو وہ پیچ سمجھتے ہیں ذکر نہیں کیا۔ جیسا کہ مقدمہ شرح مشکوۃ میں ہے۔ قال مسلم الذی تسلیم کر سکتا ہے بمقابلہ اس شدید اور لاجواب الزام کے جو بخاری "پر عائد ہوتا ہے ( درصورتیکہ ان منقولات کو واقعی منقول عن البخاری تسلیم کیا جاوے ) کہ اس نے (بخاری) دین کے اکثر سے اکثر حصہ کو اور صحیح اور ثابت شد و حصہ کو یعنی کلام نبوی کو جس کی تبلیغ اس پر فرض تھی محمد اکسل اور طوالت کی وجہ سے ترک کر دیا اور خوف طوالت کا نہایت بودہ اور نا قابل سماعت عذر پیش کر دیا ۔ دھیان میں لاؤ ان شاقہ محنتوں اور دراز مصائب کو جن کے بہ تفصیل سننے سے ایک صاحب عزم آدمی کی روح کانپ اٹھتی ہے اور جنہیں حضرت امام بخاری نے جمع احادیث کی خاطر مختلف سفروں میں گوارا کیا اور ان زمانوں میں صحرا ہائے دشوار گذار قطع کئے جب کہ قدم قدم پر ہلاکت کا اندیشہ تھا اور پھر جب کئی لاکھ احادیث کو جمع کر کے ایک لاکھ صحیح ان میں سے چھانٹیں۔ تو نیکی کر دریا میں ڈال" کے مقولہ پر عمل کر کے بلاوجہ کسی ترجیح کے چار ہزار کو رکھ لیا اور باقی چھیا نویں ہزار کو نیست و نابود کر دیا !!! ابله گفت و دیوانہ باور کرد۔ اے سنگدل مولویو! تمہیں کس نے دین کی حمایت کرنا سکھایا۔ تم تو خدا کی اس کے برگزیدہ رسول کی خدام کرام رسول کی توہین کر رہے ہو۔ وَلكِنْ لا تَشْعُرُونَ لا سچ ہے اہل اللہ کے مقابلہ میں جو لوگ آویں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو مسخ کر ڈالتا ہے ان کی عقلیں تاریک ہو جاتی ہیں۔ اے مولائے کریم ہمیں اس سے بچانا کہ ہم تیرے برگزیدوں سے لڑائی کی ٹھہرائیں۔ ایڈیٹر البقرة : ۱۵۵