اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 69
۶۹ مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ اوردت في هذا الكتـب من الاحاديث صحيح ولا اقول ان ماتركت ضعیف ۔ امام مسلم نے خود اپنی کتاب صحیح میں فرمایا ہے لیس كل شئ عندى صحيح وضعته هنا يـعـنـى فـي كتاب الصحيح وانما وضعت ههناما اجمعوا علیہ آپ دل میں سوچ کر انصاف سے کہیں کہ امام بخاری یا خود امام مسلم کی کسی حدیث کی روایت کو ترک کرنے سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ وہ حدیث ان کے نزدیک صحیح نہ ہو۔ آپ انکل بچو ایسی باتیں کہہ کر یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ فن حدیث سے آپ کو کوئی تعلق اور کچھ مس نہیں اس الزام دھوکہ دہی و نا واقفی کو آپ مانیں خواہ نہ مانیں آپ کے کلام سے تو یہ ثابت ہوتا ہے جس کے ماننے سے آپ کو بھی انکار نہیں کہ حدیث دمشقی صحیح مسلم کو آپ نے اپنے اجتہاد سے ضعیف قرار دیا ہے اور آپ کے اعتقاد مخفی توہین صحیحین کے اظہار کے لئے اس مقام میں اسی قدر بس ہے۔ اہل حدیث * جو آپ کے پنجہ میں گرفتار ہیں آپ کے اس قول واقرار سے یقین کریں گے کہ آپ حدیث صحیح مسلم کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور اس پر جو فتوی لگائیں گے و مخفی نہیں ہے۔ (۶) آپ لکھتے ہیں کہ ازالتہ الاوہام میں احادیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کی نسبت میں نے یہ قطعی فیصلہ نہیں دیا کہ وہ موضوع ہیں بلکہ شرطیہ طور پر کہا ہے کہ اگر ان کے باہمی تناقض کو دور نہ کیا جائے گا تو ایک جانب کی حدیثوں کو موضوع ماننا پڑے گا۔ یہ آپ کی محض حیلہ سازی ہے ۔ جس مقام میں آپ نے ان حدیثوں کو موضوع کہا وہاں شرط تناقض بیان نہیں کی بلکہ بڑے زور سے پہلے ان کا تعارض ثابت کیا ہے پھر ان پر موضوع ہونے کا حکم لگا دیا ہے جس سے صاف ثابت ہے مولوی صاحب! عجب و پندار چھوڑ دو۔ کبریا اللہ تعالی کی چادر ہے۔ یہاں شیخی کام نہیں آ سکتی ۔ آپ کو اپنے خیالی علم نے پاتال کے تاریک اور گندھک کے کنوئیں میں ڈال رکھا ہے۔ آپ ان لوگوں کو بارہا حقارت سے یاد کر چکے جو حضرت مسیح موعود - مجدد - محدث حضرت مرزا صاحب (سلمہ الرحمن ) کی جناب میں عقیدت رکھتے ہیں ان کا حق ہے کہ آپ کو فورا یہ سنائیں أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءِ سے پنجہ میں گرفتار ہیں“ کیسا حقارت آمیز جملہ ہے! حضرت مسیح موعود کو اجلة الفضلاء ( مولانار ء ( مولا نارفیقی و انیسی مولوی نورالدین صاحب۔ حضرت مولوی محمد احسن صاحب بھوپالوی مولانا مولوی غلام نبی صاحب خوشابی و غیر ھم جن میں سے اکثر کی فہرست حضرت اقدس نے ازالہ اوہام کے آخر میں شائع کی ہے ) مانتے ہیں ۔ ان پر جان و دل سے فدا ہیں۔ بڑے بڑے خدا کے نیکو کار بندے متقی ۔ صاحب تقوای و انابت و خشية وطہارت حضرت اقدس کو خلوص قلب سے خادم دین اللہ اعتقاد کرتے ہیں۔ ایک یہ خاکسار گنہ گار عبدالکریم بھی ہے جو کتاب وسنت پر علی بصیرت مطلع ہو کر حضرت ممدوح کو اپنا مخدوم ومرشد مانتا ہے۔ حاشیه البقرة: ١٤