اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 66
۶۶ روحانی خزائن جلد ۴ مباحثہ لدھیانہ ۶۴ پہنچانے کے طالب نہ رہیں گے اور اس حدیث کو جس کا مضمون خود ایک اصول ہے تسلیم کر کے اپنے انکار سے رجوع کریں گے والله ثم بالله ثم تالله و كفى بالله شهيدا و كفى بالله و کیلا ۔ اور اگر آپ صحت حدیث ثابت نہ کر سکیں یا شیخ طوسی سے امور مذکورہ بالقتل صریح ثابت نہ کریں تو آپ اپنے مخترعہ مستحدثہ اصول پر اصرار وضد چھوڑ دیں ۔ زیادہ ہم کیا کہیں ۔ (۵) آپ لکھتے ہیں کیا آپ قرآن کریم کی ان خوبیوں کے بارہ میں کہ وہ محک اور معیار اور میزان ہے کچھ شک میں ہیں یہ کمال دھو کہ رہی ہے اور وہ اپنے پر چہ نمبر میں میرا یہ اقرار کہ میں قرآن کو امام جانتا ہوں اور احادیث صحیحین کو قرآن کے برابر نہیں سمجھتا نقل کرنے کے بعد یہ استفسار ایک افترا ہے جس سے مقصود صرف اپنے بے علم حاضرین مریدوں کو میری طرف سے بدظن کرنا ہے اور یہ جتانا ہے کہ شیخص قرآن کو نہیں مانتا۔ اس کا جواب میں پہلے بھی دے چکا ہوں کہ جو شخص قرآن کو حکم و امام نہ مانیں وہ کافر ہے۔ اب پھر کہتا ہوں کہ قرآن ہمارا حکم امام میزان معیار قول فصل وغیرہ ہے مگر آپ اپنے غیر پر یعنی لوگوں کے باہمی اختلافات و تنازعات پر جو رائے پر مبنی ہوں اور حدیث بیح تو خادم و مفسر قرآن اور وجوب عمل میں مثل قرآن ہے وہ اس سے مخالف و متنازع نہیں اور کسی مسلمان کا اس کی صحت قبول کرنے میں اختلاف نہیں تو پھر قرآن اس کی صحت کا حکم و معیار و محک کیونکر ہوسکتا ہے۔ اے خدا کی مخلوق خدا سے ڈرو۔ مسلمانوں کو دھو کہ میں نہ ڈالو قرآن وحدیث صحیح ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے کے مصدق ہیں تو پھر ایک کا دوسرے کے محک و معیار ہونا کیا معنے رکھتا ہے آپ لکھتے ہیں کہ موضوع ہونا کسی حدیث کا اور بات ہے ضعیف ہونا اور ہے اور میں نے صحیح مسلم کی حدیث دمشقی کے ضعیف حاشيه حاشیه اہل ایمان۔ خدا ترس ناظرین پر واضح رہے کہ مولوی صاحب مرزا صاحب کے اس اصول کو کہ ” قرآن کریم صحت احادیث کا معیار ہے۔" مخترعہ۔ مستحدثہ اصول قرار دیتے ہیں۔ بے شک حضرت مرزا صاحب کا بڑا بھاری جرم ہے کہ وہ اختلاف کے وقت قرآن مجید کو حکم قرار دیتے ہیں مولوی صاحب اس پر جس قدر ناراض ہوں بجا ہے۔ آفرین ۔ مولوی صاحب ! ۔ ایڈیٹر مولوی صاحب ! ہوش سے بولئے ۔ آپ دہائی کیوں دیتے ہیں ۔ مرزا صاحب کب کہتے ہیں کہ حدیث صحیح قرآن کی معارض و مخالف ہوتی ہے۔ مرزا صاحب کا یہ قول ہے کہ ہر ایک حدیث کو قرآن مجید کی محک پر کسنا چاہئے جو اس امتحان میں پوری اترے وہ صحیح ہوگی اور پھر وہ لا محالہ قرآن کی مصدق ہوگی اور قرآن اور اس کا مضمون باہم متوافق ہوگا۔ آپ کا یوں چلانا بے سود ہے مولوی صاحب کہتے ہیں کہ پھر اس کی صحت کا قرآن کیونکر معیار وحکیم بن سکتا ہے۔“ ہم کہتے ہیں کہ وہ بیج جب ہی ہوگی جب قرآن کے معیار کے موافق کامل المعیا ر ثابت ہوگی پہلے اس کی صحت تو ثابت ہونی چاہئے۔ بات تو بڑی آسان ہے کچھ یونہی سا پھیر ہے۔ مولوی صاحب اگر غور کریں تو شاید سمجھ جائیں۔ یاد رکھیئے کہ قرآن کی مفسر و خادم بھی وہی حدیث ہو سکے گی جو قرآن کی میزان میں پوری اترے گی۔ مولوی صاحب ! بتائیے تو آپ کو اس فضول بیچ نے کیوں