اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 59
روحانی خزائن جلد ۴ معين ۵۹ مباحثہ لدھیانہ کما حكاه الذهبي على ان في هذا الحديث الموضوع نفسه مايدل على رده لانا اذا ۵۷ عرضناه على كتاب الله خالفه ففى كتاب الله عز وجل ما اتاكم الرسول فخذوه ومانهاكم عنه فانتهوا ـ ونحوه من الايات انتھی۔ اور جو حدیث حارث اعور آپ نے پیش کی ہے وہ بھی اولاً صحیح نہیں جس کتاب مشکوۃ سے آپ نے وہ حدیث نقل کی ہے اس میں اس کا جرح موجود ہے جس کو آپ نے سرقہ وخیانت سے نقل نہیں کیا اس میں منقول ہے۔ قال الترمذى هذا حديث اسناده مجهول و في الحارث مقال ۔ ایسا ہی تقریب التہذیب میں حارث اعور کو مجہول کہا ہے اور اس حارث کا حال ہم کتب اسماء الرجال سے تفصیل نقل کریں تو ایک دفتر ہو جائے ۔ یہ امور بھی ایک دجال تھا اور اگر بطور فرض محال اس حدیث کو صحیح تسلیم کر لیں تو اس کے وہ معنی نہیں جو آپ نے بطور تحریف کئے ہیں بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ لوگ دلائل شرعیہ یعنی قرآن و حدیث کو چھوڑ کر محض رائے والی باتوں میں خوض کریں تو اس فتنہ سے نجات قرآن سے متصور ہے اور احادیث و آثار سابقہ سے ظاہر ہو چکا ہے کہ حدیث بھی مثل قرآن ہے ۔ بناءً علیہ اس حدیث کے یہ معنے ہوں گے کہ اس فتنہ سے نجات قرآن و حدیث دونوں کی اتباع سے متصور ہے نہ یہ کہ حدیث نبوی فتنہ ہے اور اس سے نجات مطلوب ہے۔ آپ نے اس حدیث کے ترجمہ میں لفظ احادیث کا ترجمہ لفظ حدیثوں سے کیا اور مسلمانوں کو پورا دھوکہ دیا روئے زمین میں ایسا کوئی مسلمان نہ ہوگا جو اس کلام میں احادیث سے نبوی حدیثیں مراد لیتا ہو ۔ یہاں احادیث سے لوگوں کی باتیں مراد ہیں جو اس کے لغوی معنے ہیں اور بہت سی احادیث نبویہ میں یہ لغوی معنے پائے جاتے ہیں ایک حدیث میں ہے ایاک والظن فان الظن اكذب الحدیث ۔ ایک حدیث میں ذکر ہے کـفـابـالـمـرء كذبا أن يحدث بكل ماسمع یہاں بھی حدیث سے بات کرنا مراد ہے جس حدیث میں بوقت قضاء حاجت دو شخصوں کی آپس میں باتیں کرنے سے ممانعت وارد ہے اس حدیث میں بھی لفظ يحدثان بولا گیا ہے کیا ان سب احادیث میں حدیث سے حدیث نبوی کی تحدیث مراد ہے۔ ہر گز نہیں۔ آپ نے اس حدیث اعور کے معنے میں تحریف کرنے کے وقت یہ غور نہ کیا کہ حدیث کے لغوی معنے کیا ہیں یا کہ دیدہ دانستہ لوگوں کو دھوکہ دیا۔ حضرت عمرؓ کے قول حسبنا کتاب اللہ سے جو آپ نے تمسک کیا ہے اس سے یہ مقصود نہیں کہا حادیث صحیح مسلم الصحة والثبوت کو چھوڑ کر کتاب اللہ کو کافی سمجھنا چاہئے بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جہاں ہمارے پاس سنت صحیحہ نبویہ سے کوئی تفصیل نہ ہو وہاں قرآن کریم کو کافی سمجھیں گے کیونکہ اس صورت میں یہ امر ناممکن ہے کہ قرآن کریم میں اس کا بیان کافی نہ ہوا ہو ۔ قرآن میں اس کا بیان نہ ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں ضرور اس کی تفصیل پائی جاتی اس پر روشن دلیل جس سے کوئی مسلمان انکار نہ کرے یہ ہے