اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 327

روحانی خزائن جلد۴ ۳۲۷ الحق مباحثه دیلی فان كان تجسيما ثبوت صفاته لديكم فاني اليوم عبد مجسّم ما هو جوابكم من هذه الاكابر فهو الجواب من المجدّد اے میرے مخدوم۔ ذرہ میرے حال پر عنایت فرما کر خط حال اور خط سابقہ کو غور سے پڑھو در نہ پھر میں بھی یہ مصرعہ پڑھے دیتا ہوں یا رب مباد کس را مخدوم بے عنایت ۱۹۲ اعتراض وہم ۔ کتاب منصب امامت پر چلنے کی کیوں ہدایت ہے آیت وَمَا أَنتُكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۔ کیا منسوخ ہوگئی۔ آخر خط تک ۔ الجواب۔ گستاخی معاف تقویۃ الایمان پر چلنے کی کیوں ہدایت ہے۔ کیا آیہ مذکورہ منسوخ ہوگئی جو تقویۃ الایمان وغیرہ پر چلنے کی ہدایت ہوتی ہے۔ما هو جوابكم فهو جوابنا ۔ علاوہ یہ کہ تقویت الایمان کو منصب امامت وغیرہ پر کیا ترجیح ہے جو انہیں چھوڑ کر اُس پر چلیں بلکہ منصب امامت اور صراط مستقیم کو تقویت الایمان پر ضرور بالضرور ترجیح حاصل ہے کیونکہ یہ دونوں کتابیں آخری تصنیف ہیں اور قول آخر قول سابق کا ناسخ ہوا کرتا ہے اور پھر یہ عرض ہے کہ میں نے آپ کو منصب امامت پر چلنے کی کب ہدایت کی ہے خود آپ نے خط اول میں لکھا تھا کہ مولانا اسمعیل صاحب شہید و مجدد نے ایسے مضامین کی جو توضیح المرام میں لکھے ہیں تقویت الایمان میں مذمت کی ہے۔ میں نے آپ کے جواب میں الزاماً لکھا کہ خود حضرت مولانا اسمعیل صاحب نے ایسے مضامین کو منصب امامت صراط مستقیم میں صحیح فرمایا ہے۔ اب فرمائیے کہ مولانا اسمعیل مجدد صاحب کی کتاب پر چلنے کا ذکر اولاً آپ نے کیا یا میں نے ۔ اور پھر یہ عرض ہے کہ تقویت الایمان اور منصب امامت وغیرہ میں کوئی تناقض بھی نہیں ہے جو تقویت الایمان پر چلنے سے منصب امامت وغیرہ ہاتھ سے جاتی رہے یا منصب امامت وغیرہ پر چلنے سے تقویت الایمان فوت ہو جاوے۔ کیونکہ ان دونوں میں کسی طرح کا تناقض اور تضاد نہیں ہے میں دو جملہ عرض کرتا ہوں ۔ سنئے۔ زید الحشر: ۸