اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 326 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 326

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۲۶ الحق مباحثہ دہلی قرب الہی بلا تشبیہ حاصل ہے جیسا کہ خادم خاص فرمانبردار کو اپنے مخدوم کے ساتھ یہ ادنی درجہ قرب کا ہے جو فی نفسہ وہ بھی بہت بڑا ہے کہ اُس کی نسبت وارد ہے وَالَّذِيْنَ امَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ - دوسرا مرتبہ قرب کا بلا تشبیہ ایسا ہے جیسا کہ خلف الرشید پسر کو اپنے والد ماجد سے جس کی طرف اشارہ ہے فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ أَوْ أَشَتَذِكْرًا تیسرا مرتبہ قرب کا کہ سب سے بڑھ کر ہے اُس کی تمثیل بطور استعارہ کے ایسی ہے کہ کسی شخص کی تصویر جو آئینہ میں دکھائی دیتی ہو کہ اس میں تمام صفات ذی الصورت کے موجود ہوں گے۔ ان تینوں مراتب میں جو فرق ہے وہ اہل بصیرت پر پوشیدہ نہیں ہے اور یہی خلاصہ اور حاصل ہے حضرت مجدد صاحب کی کلام کا جو تو ضیح المرام میں مذکور ہے۔ اعتراض ہشتم آپ کا یہ ہے کہ اتحاد سے مرادا اگر اتحاد مجازی ہے تو کچھ موجب فضیلت نہیں اور اگر اتحاد حقیقی مراد ہے تو کفر ہے۔ الجواب۔ جواب اس کا گذر چکا کہ قول اتحاد حقیقی کا بلا شبہ کفر ہے اور اتحاد مجازی مجھ کو اور آپ کو دونوں کو مسلم ہے جس کے مدارج بطور کلی مشکک کے مختلف ہیں۔ سب سے اوپر کے مرتبہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے کہ اس مقام تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ ادم و من دونه تحت لوائی اعتراض نہم ۔ اس محاورہ اور طرز استعمال میں کوئی خدشہ نہیں۔ الجواب۔ پھر مرزا صاحب پر آپ کیوں خدشہ کرتے ہیں جو خدشہ آپ کا مرزا صاحب پر ہے وہی بعینہ امام شافعی وابن تیمیہ وغیرہ پر وارد ہوتا ہے۔ قال الشافعی: ان كان رفضًا حب آل محمد فليشهد الثقلان انّى رافض و قال شيخ الاسلام ابن تيمية : ان كان نصباحبّ صحب محمد فليشهد الثقلان انى ناص و قال ابن قیم : البقرة: ١٦٦ البقرة : ٢٠١