اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 322

روحانی خزائن جلد۴ ۳۲۲ الحق مباحثہ دہلی مذہب رکھئے۔ کیونکہ مدعا ہمارا یعنے اتحاد مجازی تو آپ تسلیم ہی فرما چکے ہیں ۔ ثبوت مدعا اس آیت پر موقوف نہیں لیکن جس صاحب کے نزدیک اس آمید کی تفسیر و ترجمہ اس طرح پر ہو که نزدیک ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے پھر نیچے کی طرف اُترے یعنی مخلوق کی طرف واسطے تبلیغ احکام کے بلکہ اس سے زیادہ نزدیک تر ہوئے ) حاصل یہ کہ ضمیر دَنَى فَتَدَلی وغیرہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف راجع ہو جیسا کہ اکثر مفسرین نے لکھا ہے۔ تو اس صورت میں جس اتحاد مجازی کے واسطے اس آیہ کو میں نے سابق میں لکھا تھا بخوبی مفید ہو گی اگر مفصلاً ومشرحاً آپ کو یہ تفسیر مطلوب ہوگی تو انشاء اللہ تعالیٰ عرض کی جاوے گی اور واضح خاطر ہو جیسا کہ در صورت اختلاف احادیث کے جمع مقدم ہوتی ہے ترجیح پر تا کہ اہمال احادیث کا لازم نہ آوے۔ اسی طرح پر جب کسی آیت کی وجوہ صحیحہ تفسیر مختلف ہوں تو مھما امکن سب وجوہ کو اخذ کرنا چاہئے تا کہ سب پر اعمال ہو جاوے اور اہمال لازم نہ آوے۔ اس بیچد ان کے نزدیک تفسیر اس آمیہ کی جو حضرت مجدد پر مکشوف ہوئی ہے وہ کسی مجد د سابق پر مکشوف نہیں ہوئی کم ترک الاول للآخر اس میں کوئی استبعاد نہیں ہے۔ قال الله تعالى وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَابِنُهُ وَمَا نُنَزِّلَةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوم ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر ایک شے کے خزائن کثیرہ موجود ہیں تو کیا معارف قرآنیہ واسرار فرقانیہ شے میں داخل نہیں ہیں وہ تو اپنے اپنے وقت میں مجدد امت پر نازل ہوتے رہتے ہیں اور اسی واسطے اُس کو مجدد کہا گیا ہے کہ وہ فہم جدید کتاب و سنت کا لاتا ہے کوئی شریعت جدید نہیں لاتا اگر ہم جدید بھی نہ لاتا ہوتو ۔۔۔۔ اس کو مجدد کیوں کہا گیا آیت مَا رَمَيْت وغیرہ کی نسبت جو آپ نے لکھا ہے کہ ایسا وصف اوروں کے واسطے بھی آیا ہے اس میں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا فضیلت بخصوصیت حاصل ہوئی ۔ اس کا (۱۸۹) الحجر : ٢٢