اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 317

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۱۷ الحق مباحثہ دہلی مولوی سید محمد احسن صاحب کا جواب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مجھی فی اللہ والی الله منشی محمد الحق صاحب و منشی بو به شاه صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته مطر۔ عنایت نامہ نے صادر ہو کر محفوظ و مسرور کیا۔ جزاکم اللہ خیر الجزاء آپ کو تحقیق مسائل کا بڑا شوق ہے اور اس ا پر پر یہ یہ بڑی بڑی خوب خوبی ہے کہ کتاب ناب و وسنت ہی آپ کا سمح مح نظر نظر ہے ہے آپ آ۔ جیسے ۱۸۵ صاحبوں سے قبول حق کی بڑی امید ہے تقلید کی صورت میں یہ امید نہیں ہوتی ۔ خط حال میں آپ نے چند اعتراض کئے ہیں ۔ میرے پہلے خط کو آپ نے غور سے ملاحظہ نہیں فرمایا لہذا مکر رلکھتا ہوں ۔ اعتراض اول حضرت مرزا صاحب نے اپنے اور مسیح علیہ السلام کے لئے ایک ایسا درجہ ثابت کیا ہے جس کو ابن اللہ کے ساتھ تعبیر کر سکتے ہیں۔ حالانکہ کتاب وسنت میں بالکل اس کا ثبوت نہیں ہے۔ الجواب بے شک بہت صحیح ہے۔ کتاب وسنت میں اس مرتبہ کے ثبوت کا کیا ذکر ہے۔اس کی نفی موجود ہے اور یہ تو مذہب یہود و نصاریٰ کا ہے۔ وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرُ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصْرَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللهِ ۔ اور فرمایا وَلَا تَقُولُوا ثَلُثَةٌ إِنْتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ لیکن اے میرے محب فی اللہ مرزا صاحب اس کے کب قائل ہیں وہ اس کی نسبت یہ کہتے ہیں جس کو نا پاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے اور ذرا امکان کو جو ہالکۃ الذات باطلة الحقیقت ہے حضرت اعلیٰ واجب الوجوب کے ساتھ برابر ٹھہرا دیا ہے انتھی بلفظہ ۔ مرزا صاحب کے کلام سے صحیح و صریح معلوم ہوا کہ جو لوگ ایسی تثلیث کے قائل ہیں اُن کی طبیعتیں ناپاک ہیں اور وہ مشرک ہیں اور عیسی ابن مریم ہوں یا ان کے التوبة : ٣٠ النساء: ۱۷۲