اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 316
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۱۶ الحق مباحثہ دہلی وحدت مجازی وغیرہ پر محمول کرنے میں کوشش کی ہے مرزا صاحب کے نزدیک رائیگاں ہے ۔ ۱۸۴ یا رب مباد کس را مخدوم بے عنایت - قولکم کتاب منصب امامت و صراط المستقیم الخ ۔ شاید آیہ کریمہ وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا آپ کے نزد یک منسوخ ہو گئی ہوگی جو منصب وغیرہ پر چلنے کی ہدایت ہوتی ہے علاوہ بریں منصب امامت اور صراط المستقیم کو تقویت الایمان پر کیا ترجیح ہے جو اُسے چھوڑ کر اُن پر چلیں ۔ صفحه ۶۲ - تقویت الایمان ملاحظہ فرمائیے کہ اس میں مولانا محمد اسمعیل شہید علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ۔ بلکہ بعض جھوٹے دغا بازوں نے اس بات کو خود پیغمبر کی طرف نسبت کیا ہے کہ انہوں نے خود فرمایا ہے انا احمد بلا میم اور اسی طرح ایک بڑی عبارت عربی کی بنا کر اس میں ایسی ایسی خرافتیں جمع کر کر اس کا نام خطبة الافتخار رکھا ہے۔ اور اس کو حضرت علی مرتضے کی طرف نسبت کیا ہے سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ اللہ سارے جھوٹوں کا مونہہ کالا کرے انتہی ۔ یہ عبارت مولانا مرحوم کی درباره رد لفظ احمد بلا میم نص صریح ہے اس کے مقابلہ میں منصب اور صراط مستقیم کے مضامین مہم قابل حجت نہیں ہو سکتے بلکہ صحیحین کی حدیث میں آیا ہے رسول صلعم نے فرمايالا تطروني كما اطرت النصارى عيسى ابن مريم فانّما انا عبده فقولوا عبدالله و رسوله۔ فقط ۔ جناب من خاکساروں نے آپ کو قدیمی شفیق تصور کر کے دوبارہ تصدیعہ دیا ہے تا کہ خدشات ہمارے رفع ہو جائیں شاید اگر جناب کے نزدیک کوئی لفظ نا ملائم معلوم ہو تو معاف فرمادیں۔ اگر معاملہ دینی نہ ہوتا تو جو کچھ آپ تحریر فرما دیتے اس کے قبول کرنے میں عذر نہ ہوتا چونکہ یہ معاملہ متعلق دین اور اعتقاد کے ہے اور وجودیوں کو ہم جمیع پیشوایان دین سے مخالف و مخرب شریعت سنتے آئے ہیں خصوص جملہ فرق اسلام سے یہ فرقہ بدترین ہے پھر کیونکر صبر کیا جاتا۔ ا الحشر : ٨ عریضه بو به شاه ومحمد الحق مورخه ۳۰ را گست ۱۸۹۱ء