اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 311
روحانی خزائن جلد۴ ۳۱۱ الحق مباحثہ دہلی رتبہ بھی کوئی نہیں جان سکتا مثل مشہور ہے۔ ولی راولی می شناسد۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خودی اور ہوا و ہوس سے ایسے جدا اور علیحدہ ہو گئے ہیں کہ کوئی امر مقتضائے خودی اور خود بینی کا سوائے مرضیات احدیت کے ان میں پایا نہیں جاتا۔ حدیث اصبح اصیح میں آنحضرت کے خادمین اولیا کی نسبت موجود ہے۔ كنت سمعه الذي يسمع به و بصره الذي يبصر به ويده التي يبطش بها و رجله التي يمشي بها و لسانه الذي يتكلم به الى اخره - آپ اس حدیث کے کیا معنے سمجھتے ہیں اسی قسم کے یہ اشعار ہیں ۔ زان نمط شد محو دلبر کز کمال اتحاد پیکر او شد سراسر صورتِ رب رحیم كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ کے کیا معنے ہیں اور خلق آدم علی صورتہ کے معنے پر غور کروا گر چہ ضمیر صورتہ میں بہت اختلاف ہے مگر جس صورت میں کہ ضمیر صورتہ کی راجع ہو طرف اللہ کی تو پھر کیا معنے ہوں گے ۔ وہی معنے اس شعر کے سمجھے جائیں۔ بوئے محبوب حقیقی مے دمد زان روئے پاک ذات حقانی صفاتش مظہر ذات قدیم اے میرے پیارے دوست تم ہر جمعہ کے خطبہ میں سنتے ہو گے کہ السّلطان ظلّ الله الخ۔ جب ایک ادنی سلطان کے واسطے ایسا کچھ ارشاد ہے کہ وہ ظل اللہ ہے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مظہر الہی ہونے میں کون مومن شک کرسکتا ہے۔ گرچہ منسوبم کند کس سوئے الحاد و ضلال چون دل احمد نے بینم دگر عرش عظیم مہربان من اس آیت کے کیا معنے ہیں۔ قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ العبدِین کے امام شافعی و نیز کبراہ مجتہدین امت کے اشعار میں اس قسم کا محاورہ پایا جاتا ہے۔ ان كان رفضا حب آل محمد فليشهد الثقلان اني رافض الزخرف : ۸۲