اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 312

روحانی خزائن جلد۴ ۳۱۲ الحق مباحثہ دہلی جو معانی ان محاورات کے ہیں وہی اس شعر کے معنے ہو سکتے ہیں۔ رابعاً کتاب منصب امامت اور صراط المستقيم مصنفہ مولانا و مقتدا نا جناب شہید فی سبیل اللہ مولانا محمد اسمعیل صاحب کی ملاحظہ ہو ان دونوں کتابوں کو آپ شرح پاویں گے اُن مضامین کی جو حضرت اقدس کی تصانیف میں پائی جاتی ہیں۔ ہمچنین چون امواج جذب و کشش رحمانی نفس کامله این طالب را در قعرنج بسیار احدیت فرو می کشد زمـزمــه انـا الحق و ليس في جبتي سوی الله از ان سر بر میزند که کلام هدایت التیام کنت سمعه الذي يسمع به و نبيه سمع بصره الذي يبصـر بـه ويده التي يبطش بها و رجله التي يمشي بها ودر روايت و لسانه الذى يتكلم به حکایت است از انو اذ قال الله على لسان الله لمن حمده و يقضى الله على لسان نبيه ما شاء کنایت است ازان این مقاله است بس بار یک و مسئله است بس نازک۔ باید که دران نیک تامل کنی و تفصیل اور ابر معانی دیگر تفویض نمائی شعر و وراء ذاك فلا اقول لانه اثر لسان النطق عنه اخرس و زنہار برین معامله تعجب نہ نمائی و با نکار پیش نہ آئی زیرا که چون از نارِ وادی ندائے إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ " سر بر زد اگر از نفس کامله که اشرف موجودات و نمونہ حضرت ذات است آواز انا الحق بر آید محل تعجب نیست‘ الخ۔ پس اس مسجد دالوقت کا کوئی کلام مخالف کلام مولانا محمد اسمعیل صاحب کے ہرگز ہرگز نہیں ہے بلکہ ایک صاحب کا کلام دوسرے صاحب کے کلام کی شرح ہے البتہ ناظرین کی نظر اور سمجھ کا قصور ہے اگر رسالہ اعلام آپ کو نہ ملے گا تو میں انشاء اللہ تعالی خرید کر روانہ کروں گا اپنے حالات خیر بیت سمات سے ہمیشہ مطلع فرماتے رہو۔ مور محہ ۳۱ / جولائی (۱۸۹ء۔ الراقم محمد احسن مہتمم مصارف ریاست بھوپال القصص: ۳۱