اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 304

۳۰۴ روحانی خزائن جلده الحق مباحثہ دیلی ۱۷۴ اس آیت کو وفات مسیح میں صريحة الدلالت اور قطعية الدلالت نہیں کہتے جیسا کہ جناب اس آیہ کو حیات مسیح میں قطعیۃ الدلالت فرماتے ہیں۔ بموجب اقرار جناب کے آپ کے نزدیک بھی ضمیر قبل موتہ کی ذوالوجوہ ہے جس کو اہل اصول نے ایسی ضمیر کو متشابہ کی مثال میں لکھا ہے پھر اگر ایک وجہ کو تسلیم کر کر اس کے معنے صحیح اور سالم عن الفساد حضرت مرزا صاحب نے بیان فرمائے ہیں تو اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ دوسری وجہ غلط اور باطل ہوگئی قوله دوم بر تقدیر موت بھی الخ اقول اللہ تعالیٰ جو اصدق الصادقین ہے فرماتا ہے۔ اَوْ تَرْقُ فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرَقِبْكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتبًا نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبّى هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرً از سُولًا ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مخبر صادق نے جو خبر دی ہے اس مسیح آنے والے کے واسطے از روئے احادیث متفق علیہ کے یہ قید بھی لگادی ہے و امامکم منکم اور فامکم منکم یعنی امكم بكتاب الله تعالى وسنة رسوله صلی الله علیه و سلم پس جملہ احادیث مطلقہ جو درجہ تو اتر معنوی کو پہنچی ہوئی ہیں ان سے مراد بھی یہی مقید ہوگا كما مر تفصیلہ پس ثابت ہوا کہ مخبر صادق نے یہ خبر بھی نہیں دی کہ مسیح بن مریم جو اس امت میں آنے والا ہے وہی عیسی بن مریم بنی اسرائیلی آوے گا جو نبی و رسول بنی اسرائیل کا تھا بلکہ یہ خبر دی ہے۔ وہ بیچ آنے والا تم میں سے ایک ایسا اور ایسا امام ہوگا اور اس کی امامت کتاب اللہ کے معارف واسرار اور سنت رسول صلم کے بیان دقائق وحقائق میں ہوگی جیسا کہ صحیح مسلم میں اس کی بحث واقع ہو چکی قوله بر تقدیر وفات بھی الخ اقول مولا نا بڑی وجہ قومی اور معقول موجود ہے جس کا بیان مفصلاً ثابت ہو چکا یعنی حضرت عیسی بن مریم رسول اللہ جنت میں داخل ہوچکےقیل ادخل الجنة وادخلي جنتي - وماهم منها بمخرجين + قوله ظاہر اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ سوائے احادیث نزول کے دیگر الخ اقــــــول ملاحظہ فرمایا جاوے ازالته الا وہام افادات البخاری صفحه ۹۰۱ تا کہ جناب کو ثابت ہو کہ بخاری میں متعدد جگہ ابن مریم کا ذکر کر کے اس سے مراد کوئی مثیل لیا گیا ہے قوله افسوس کہ باوجود الخ اقول باوجود اسکے کہ آپکے اقرار سے آیت وان من اهل الكتاب حیات و وفات میں ذو الوجود ہے پھر بھی آپ اس کو قطعی الدلالت حیات میں فرماتے ہیں انالله وانا اليه راجعون والى الله المشتکی اب سنیے یہ تو آپ کی تحریر کا جواب ترکی بتر کی ہوا اب ایک نہایت منصفانہ اور فیصلہ کرنے والا جواب دیا جاتا ہے آپ اگر انصاف کے مدعی اور حق کے طالب ہیں تو اسی جواب کا جواب دیں اور جواب ترکی بتر کی سے تعارض نہ کریں ایسا کریں گے تو یقینا سمجھا جاوے گا کہ آپ فیصلہ کرنا نہیں چاہتے اور احقاق حق سے آپ کو غرض نہیں ا بنی اسرائیل: ۹۴ دیکھئے اگلے صفحہ ۳۰۵ پر درج حاشیہ ( حاشیہ صفحہ ۱۷۴ ایڈیشن اوّل ) ۔ ناشر