اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 300

روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی (۱۷۰) اهل الكتاب الا من امن بم اس کو آپ فرما چکے ہیں کہ آیت سے یہ معنے یعنی وقت نزول ہرگز ثابت نہیں ہوتے اور حسن بصری کی طرف قبول ان معنے کا اسناد کرنا نہایت موجب تعجب ہے حسن بصری کا قول تو جناب نے یہ قتل کیا ہے یعنی النجاشی و اصحابہ اس قول میں معنے استقبال سے کیا نسبت یہ تو خاص حال ہو گیا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تو خود ان معنے کا قبول بطور شک کے فرماتے ہیں نہ مثل جناب کے کہ یہ آیت معنے مطلوب میں قطعی الدلالت لذا تہا ہے اور ابن کثیر سے جو جناب نقل فرماتے ہیں کہ یہ معنی بدلیل قاطع ثابت ہیں الخ ۔ لہذا جناب سے مطالبہ دلیل قاطع کا ہے وہ دلیل قاطع بیان فرمائی جاوے۔ سے نگفتہ ندارد کسی با تو کار ۔ ولیکن چوگفتی دلیلش بسیار آئے رہا کسی قول کا کسی کے نزدیک اولی ہونا یا اصح ہونا سو یہ چیز دیگر ہے اور قطعی الدلالت ہونا چیز دیگر وشتان بينهما پس تقریب دلیل جناب کی محض نا تمام ہے قولہ میں تو وہی معنے جو تمام صحابہ و تابعین و غیر ہم سے الخ اقول ۔ تمام صحابہ یا تابعین سے منقول ہونا ان معنی کا غیر صحیح ثابت ہو چکا اور آپ خود تعلیم فرما چکے کہ ہاں دو قول مرجع ضمیر قبل موتہ میں البتہ منقول ہیں انتھی قولکم پس ایسا کچھ فرمانا جناب کا اس اقرار کے مناقض ہے اور مسائل مستنبط کتاب و سنت کو مخترع فرمانا یہ ایک اختراع جدید ہے اور اہل لسان اپنی کلام میں از منہ ثلثہ کی تصریح کب کیا کرتے ہیں بلکہ نجم کے علماء اور غیر علماء بھی وقت تخاطب کے ایسی تصریحات نہیں کیا کرتے یہ صرف مجسم کے اطفال وقت پڑھنے میزان منشعب کے پڑھا کرتے ہیں کہ فَعَل کیا اس ایک مرد نے بیچ زمانہ گذرے ہوئے کے صیغہ واحد مذکر غائب کا بحث اثبات فعل ماضی معروف کی۔ اور حضرت اقدس مرزا صاحب نے جو زمانہ استقبال کو بھی تسلیم فرما کر معنے بیان فرمائے ہیں وہ تو یہ مضمون ہے کہ خصم را تا بدروازہ باید رسانید یہ جناب کو کیا مفید ہے اور یہ جو آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ جن صحابہ نے ارجاع ضمیر کا طرف کتابی کے کیا ہے وہ خطا پر ہیں اگر آپ کی اس تخطیہ صحابہ کو سرسری طور پر تسلیم بھی کر لیا جاوے تو حضرت مرزا صاحب جو عاشق رسول مقبول اور فریفتہ محبت صحابہ صلحم ہیں ہرگز اس آپ کی بات کو تسلیم نہ کریں گے کہ وہ صحابہ قطعی غلطی اور باطل پر ہیں جیسا کہ آپ پر چہ اول میں فرما چکے ہیں کہ جتنے معنے اس کے ماعدا میں سب غلط اور باطل ہیں كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ لا پس کیونکر ہو سکتا ہے کہ یہ مقام استعاد کا نہ ہو قوله قراءت مذکورہ فی الواقع ضعیف ہے الخ اقول جب تک کہ حکم ترجمہ عتاب بن بشیر اور نصیب کا بموجب علم اصول حدیث کے بیان نہ فرمایا جاوے اور یہ ثابت نہ کیا جاوے کہ ایسے رواۃ جو مرتبہ خامسہ میں واقع ہیں ان کی روایت سے جو قراءت آئی ہو اس سے تائید معنی قراءت کے درست نہیں تب تک یہ قول قابل قبول نہیں ہوسکتا کیونکہ تمام مفسرین محققین اس ل الكهف : ٦