اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 297

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۹۷ الحق مباحثہ دہلی کلام میں احتمال ناشی عن الدلیل پیدا ہو وہ کلام بالضرور ایک وجہ پر قطعی الدلالت نہیں رہتا۔ اور جو ۱۶۷ احتمال غیر ناشی عن الدلیل ہے وہ عند اولی الابصار ساقط الاعتبار ہوتا ہے۔ اگر ایسے احتمالات بعیدہ کا لحاظ کیا جاوے تو ہم کو ضروریات دین کا ثابت کرنا بھی مشکل ہو جاوے گا تفاسیر میں سب طرح کے اقوال ضعیفہ ور کیکہ وروایات موضوعہ مندرج ہیں اگر ان سب روایات موضوعہ اور اقوال رکیکہ کو تسلیم کیا جاوے تو پھر شرع اسلام میں ایک بڑا غدر بر پا ہو جاوے گا اور اگر کوئی کہے کہ توفی کے معنوں میں سوائے وفات وموت کے جو دوسرا احتمال مفید مخالفین ہے وہ بھی ناشی عن الدلیل ہے۔ تو گزارش یہ ہے کہ ایسے مدعی پر لازم ہے کہ ثبوت اس احتمال کا دلیل سے ثابت کرے اور انعام ایک ہزار روپیہ کا جو حضرت اقدس نے ازالہ الا وہام میں ایسے شخص کے واسطے مشتہر کیا ہے وہ طلب کرے - بعد طے کرنے اس مرحلہ کے یہ بات زبان پر لاوے کہ معنے توفی میں سوائے موت و وفات کے دوسرا احتمال بھی ناشی عن الدلیل ہے۔ ودونه خرط القتاد قوله نووی کی عبارت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے الخ ۔ اقول جب کہ نو وی جیسے شارح حدیث نے یہ امر بدلیل ثابت کیا ہے کہ اکثر ائمہ تفسیر نے ضمیر موتہ کی کتابی کی طرف راجع کی ہے تو قطعی الدلالہ کی ہے تو قطعی الدلالت ہونے میں آیت مذکورہ کے دربارہ حیات مسیح کیونکر فرق نہ آوے گا۔ آگے رہا آپ کا جرح جو نسبت قطعی الدلالت ہونے آیت متوفیک وغیرہ کے کیا ہے اس کا جواب مختصر ابھی اوپر گذر چکا ہے اور تفسیر ابن کثیر میں جو یہ قول نقل کیا ہے کہ المراد بالوفاة ههنا النوم يہ جناب کو کچھ مفید نہیں کیونکہ یہ رائے ہے ایک مفسر کی غایۃ الامر یہ کہ ایک جماعت قلیلہ کی رائے ہے جو غیر پر حجت نہیں ۔ خصوصاً ایسی ایسی حالت میں جو صحیح بخاری کی معارض ہے ہے بالفعل بالفعل ہم ہم اس اس رائے را۔ پر یہ جرح کرتے ہیں کہ اگر مراد توفی سے انا مت ہوتی تو فَيُرْسِلُ الأخرى کا مضمون واقع ہو جاتا یا اس کی نسبت کچھ ایسی تصریح ہوتی کہ یہ نوم ایک غیر معہود نوم ہے یہ کیسی نوم ہے کہ قریب دو ہزار برس کے گذر چکے اور ابھی تک فَيُرْسِلُ الاخرى واقع نہیں ہوا کما مر بیانہ سابقًا اور حضرت اقدس مرزا صاحب نے کسی جگہ پر آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَب کو وفات مسیح میں قطعی الدلالت نہیں لکھا و من ادعى فعليه تصحیح نقل قوله قوله اور ایک ترجمہ کر کے اوراق کو بڑھایا ہے الخ اقول جب کہ اختلاف مع الدلیل ہے تو ثابت ہو چکا کہ منافی قطعیت ہے اور آیت اِنِّی مُتَوَفِّيكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی میں جو احتمال دوسرا معنے توفی میں ہے وہ ناشی عن الدلیل نہیں لہذا وہ احتمال اس کے