اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 296
روحانی خزائن جلد۴ ۲۹۶ الحق مباحثہ دہلی ۱۲۲ قطعی الدلالت فرماتے ہیں تو بالضرور جو الزام مولوی صاحب پر عائد ہے وہ حضرت اقدس پر بھی عائد ہو جاتا واذ لا فلا آگے رہی یہ بات کہ کوئی ایسے معنے کسی آیت کے جو مفسرین سابقین پر مکشوف نہ ہوئے ہوں اور وہ حضرت اقدس مرزا صاحب پر مکشوف ہوں سواس میں کوئی محذور لا زم نہیں آتا کم ترک الاول للأخر مثل مشہور ہے کیونکہ یہ بات اپنے محل پر ثابت کی گئی ہے کہ معارف و اسرار قرآن مجید کے ایک خزائن لا انتہا ہیں جو وقتاً فوقتاً اولیاء اللہ اور علماء عارفین باللہ پر نازل ہوتے رہتے ہیں پچھلے مفسرین نے یہ کب دعوی کیا ہے کہ جس قدر معارف و اسرار قرآن مجید کے تھے وہ سب ہم پر مکشوف ہو گئے اور اب آئندہ کوئی اسرار اور معارف باقی نہیں رہا۔ خصوصاً تفاصیل و تفاسیران پیشگوئیوں کی جو ابھی تک واقع نہیں ہوئیں ان کی نسبت تو سب کا یہ اقرار ہے کہ قَالُوا سُبْحَنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيمُ قال الله تعالى: وَإِنْ مِنْ شَئ الا عِندَنَا خَزَابِنُهُ وَمَا نُنَزِلَةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ " جب کہ ہر شے کی نسبت ایسا کچھ ارشاد فرمایا گیا تو قرآن مجید جو افضل الاشیاء ہے اس کے خزائن اسرار کا کیا ذکر ہے قوله يطعن بادنی تغیر آپ پر بھی وارد ہوتے ہیں ۔ اقول - جوابه مرانفا_قوله اس عبارت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے الخ ۔ اقول ۔ جو معنی آیت ليؤمنن به قبل موته کے آپ لیتے ہیں ان معنے کو تمام مفسرین محققین نے سوائے ابن جریر طبری و من تبعہ کے بطور مرجوح قول ضعیف قرار دیا ہے اور قول اول اور راجح یہی لکھا ہے کہ ضمیر قبل موتہ کی طرف کتابی کے راجع ہے اور مانا کہ دونوں احتمال مساوی درجہ پر ہیں اور پھر یہ بھی تسلیم کیا کہ آپ کے نزدیک قول مرجوح تو راج ہے اور قول راجح مرجوح ہے لیکن مع هذا ایک قول کو قطعی الدلالت کہنا باطل ہے اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال - اور آیت إِنِّي مُتَوَفِّیک بالضرور وفات مسیح میں صریح الدلالت ہے اور توفی کے معنے میں سوائے وفات کے جو اور قول لکھے ہیں وہ غیر صحیح ہیں ۔ اب اگر کہا جاوے کہ جب کہ تم نے آیت لیؤمنن به قبل موته کو بسبب ذو الوجوہ اور ڈ و احتمالات ہونے کے متشابہ قرار دے دیا۔ اور تمہارے نزدیک صریح الدلالت نہ رہی تو پھر آیت متوفیک اور فــلــمــا توفیتنی بھی وفات مسیح میں صریح الدلالت نہ رہی کیونکہ وہ بھی ذوالوجوہ ہے اس واسطے کہ تفاسیر میں معنے توفی کے سوائے موت کے اور کچھ بھی تو لکھے ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ احتمال کی دو قسمیں ہیں ایک تو احتمال ناشی عن الدلیل ہوتا ہے اور دوم احتمال غیر ناشی عن الدلیل احتمال ناشی عن الدلیل مقبول ہوتا ہے اور جس البقرة: ۲۳۳ الحجر : ۲۲