اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 296
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۹۶ الحق مباحثہ دہلی ۱۲۶ قطعی الدلالت فرماتے ہیں تو بالضرور جو الزام مولوی صاحب پر عائد ہے وہ حضرت اقدس پر بھی عائد ہو جاتا واذ لا فلا آگے رہی یہ بات کہ کوئی ایسے معنے کسی آیت کے جو مفسرین سابقین پر مکشوف نہ ہوئے ہوں اور وہ حضرت اقدس مرزا صاحب پر مکشوف ہوں سو اس میں کوئی محذور لازم نہیں آتا کم ترک الاول للآخر مثل مشہور ہے کیونکہ یہ بات اپنے محل پر ثابت کی گئی ہے کہ معارف و اسرار قرآن مجید کے ایک خزائن لا انتہا ہیں جو وقتاً فوقتاً اولیاء اللہ اور علماء عارفین باللہ پر نازل ہوتے رہتے ہیں پچھلے مفسرین نے یہ کب دعوی کیا ہے کہ جس قدر معارف و اسرار قرآن مجید کے تھے وہ سب ہم پر مکشوف ہو گئے اور اب آئندہ کوئی اسرار اور معارف باقی نہیں رہا۔ خصوصاً تفاصیل و تفاسیران پیشگوئیوں کی جو ابھی تک واقع نہیں ہوئیں ان کی نسبت تو سب کا یہ اقرار ہے کہ قَالُوا سُبْحَنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ قال الله تعالى: وَإِنْ مِنْ شَيْ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ ، جب کہ ہر شے کی نسبت ایسا کچھ ارشاد فرمایا گیا تو قرآن مجید جو افضل الاشیاء ہے اس کے خزائن اسرار کا کیا ذکر ہے قولہ یہ طعن بادنی تغییر آپ پر بھی وارد ہوتے ہیں ۔ اقول - جوابه مرانفا قوله اس عبارت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے الخ ۔ اقول ۔ جو معنی آیت لـيـؤمــن بـه قبل موته کے آپ لیتے ہیں ان معنے کو تمام مفسرین محققین نے سوائے ابن جریر طبری و من تبعه کے بطور مرجوح قول ضعیف قرار دیا ہے اور قول اول اور راجح یہی لکھا ہے کہ ضمیر قبل موتہ کی طرف کتابی کے راجع ہے اور مانا کہ دونوں احتمال مساوی درجہ پر ہیں اور پھر یہ بھی تسلیم کیا کہ آپ کے نزدیک قول مرجوح تو راجح ہے اور قول راجح مرجوح ہے لیکن مع هذا ایک قول کو قطعی الدلالت کہنا باطل ہے اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال - اور آیت إِنِّي مُتَوَفِّیک بالضرور وفات مسیح میں صریح الدلالت ہے اور توفی کے معنے میں سوائے وفات کے جو اور قول لکھے ہیں وہ غیر صحیح ہیں۔ اب اگر کہا جاوے کہ جب کہ تم نے آیت ليؤمنن به قبل موتہ کو بسبب زوالوجوہ اور ذواحتمالات ہونے کے متشابہ قرار دے دیا۔ اور تمہارے نزدیک صریح الدلالت نہ رہی تو پھر آیت متوفیک اور فلما تو فیتنی بھی وفات مسیح میں صریح الدلالت نہ رہی کیونکہ وہ بھی زوالوجوہ ہے اس واسطے کہ تفاسیر میں معنے توفی کے سوائے موت کے اور کچھ بھی تو لکھے ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ احتمال کی دو قسمیں ہیں ایک تو احتمال ناشی عن الدلیل ہوتا ہے اور دوم احتمال غیر ناشی عن الدلیل احتمال ناشی عن الدلیل مقبول ہوتا ہے اور جس البقرة : ٣٣ ٢ الحجر : ۲۲