اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 286

۲۸۶ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی (۱۵۶) شرار الناس پر اس وقت سے قیامت قائم ہو جاوے چنانچہ اس درایت کی روایت صحیح بھی مؤید ہے۔ شسم يبعث الله ريحا طيبةً فتوفى كل من في قلبه مثقال حبة من خردل من ايمان فيبقى من لاخير فيه فيرجعون الی دین ابائهم۔ رواه مسلم پس آیت سے تو یہ معلوم ہوا کہ مومنین متبعین کا وجود جب تک دنیا میں رہے گا قیامت تک ساتھ غلبہ کے رہے گا اور کا فرمغلوب رہیں گے اور جب کہ مومنین متبعین کو اللہ تعالی اپنی طرف اٹھا لے گا تب اس وقت سے بقیہ شرذمہ کفار پر قیامت قائم ہوگی ۔ پس ثابت ہو گیا کہ وجود کفار بھی الی یوم القیامہ رہے گا۔ جن پر قیامت قائم ہوگی اور وجود مومنین متبعین بھی جو کفار پر وقت قیام قیامت غالب رہیں گے رہے گا اور نزدیک قیام قیامت کے کچھ قبل اسکے ریح طیبہ سے مومنین اٹھائے جاویں گے اس میں کوئی تناقض نہیں۔ ثانیاً یہ گذارش ہے کہ سلمنا کہ آیت عام مخصوص البعض ہے اور احادیث صحیح مثل لا تقوم الساعة الاعلى شرار الخلق وغیرہ اس کی مخصص ہیں لیکن چونکہ آیت مستغرق تھی کل افراد زمانوں کے واسطے اور حدیث خاص ہے واسطے وقت قیام ساعت کے پس یہ احادیث خاص اس آیت عام کی مخصص ہو گئیں لیکن اس تخصیص سے مدعا کو کیا فائدہ ہوا مانا کہ آیت مخصوص البعض ہے لیکن بعد اس تخصیص کے بقیہ افراد از منہ کو جس میں مسیح بن مریم کا زمانہ بھی داخل ہے شامل رہے گی اور شمول و عموم اس کا زمانہ مسیح بن مریم کے واسطے حجت رہے گا کتب اصول میں یہ مسئلہ مصرح کیا گیا ہے حصــول المأمول مؤلفہ حضرت نواب صاحب بہادر مرحوم و مغفور کی عبارت یہاں پر نقل کی جاتی ہے۔ واما اذا كان التخصيص بمبين فقد اختلفوا في ذلك على اقوال ثمانية منها انه حجة فى الباقى واليه ذهب الجمهور و اختاره الآمدى وابن الحاجب وغيرهما من محققى المتأخرين وهو الحق الذي لا شك فيه ولاشبهة لان اللفظ العام كان متناولا للكل فيكون حجة على كل واحد من اقسام ذالک الکل و نحن نعلم بالضرورة ان نسبة اللفظ الى كل الاقسام على السوية فاخراج البعض منها بمخصص لا يقتضى اهمال دلالة اللفظ على مابقى ولا يرفع التعبد به وقد ثبت عن سلف هذه الامة ومن بعدهم الاستدلال بالعمومات المخصوصة وشاع ذلك وذاع وقد قيل انه ما من عموم الاوقد خص وانه لايوجد عام غير مخصص فلو قلنا انه غير حجة فى مابقى للزم ابطال كل عموم و نحن نعلم ان غالب هذه الشريعة المطهرة انما تثبت بعمومات - پس اس تخصیص سے کہاں ثابت ہوتا ہے وہ دعوی کہ مسیح بن مریم کے وقت میں سب اہل ملل و نحل اسلام میں داخل ہو جاویں گے قولہ یہ آیت بھی عام مخصوص البعض ہے الخ اقول حسب قواعد علم اصول فقہ کے جو عام و خاص میں بظاہر ایک قسم کا