اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 285

روحانی خزائن جلدم ۲۸۵ الحق مباحثہ دہلی آجاوے کہ یہاں پر تخصیص مطلوب مولوی صاحب کی جاری نہیں ہوسکتی۔ ارشاد الفحول میں لکھا (۱۵۵) ہے۔ وفي الاصطلاح العام هو اللفظ المستغرق لجميع ما يصلح له بحسب وضع واحد دفعة والخاص هو اللفظ الدال على مسمى واحداعم من ان يكون فردا اونوعًا اوصنفا و قيل ما دل على كثرة مخصوصة ومن الفروق بين النسخ والتخصيص ان التخصيص لا يكون الا لبعض الافراد و النسخ يكون لكلها ـاب گزارش یہ ہے کہ آیات بینات سے بطور اخبار کے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں قیامت تک کچھ نہ کچھ کافر بھی موجودر ہیں گے ۔ قال الله تعالى وَمَا اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ ايضًا قال ـ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذلِكَ خَلَقَهُمْ ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبَّكَ لَأَمْلَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ کے اب باوجود اس اخبار اللہ تعالیٰ کے آپ یہ فرماتے ہیں کہ آیت وَانُ مِنْ أَهْلِ الْکتب میں صاف وعدہ ہے کہ قبل موت حضرت عیسی کے سب اہل کتاب مومن ہو جاویں گے اور یہ آیت مخصص واقع ہوئی ہے ان آیات بینات کی۔ مولانا صاحب اگر آپ ان دونوں آیتوں میں واسطے توفیق مفاہیم مختلفہ کے تخصیص کے قائل ہیں تو ظاہر یہ ہے کہ جناب کے معنے عام ہیں العام هو اللفظ المستغرق لجميع ما يصلح له الخ اور مفہوم آیت لَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ الآيه کا خاص ہے کہ الخاص مادل على كثرة مخصوصة او كما قيل پس بموجب فروق مذکورہ بالا کے مفہوم آیت لَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ الآیہ کا جو خاص ہے آپ کے معنے عام کا خصص ہوسکتا ہے نہ برعکس لان التخصيص لا يكون الالبعض الا فراد لیکن اندر میں صورت اس تخصیص سے کوئی فائدہ مترتب نہیں ہوتا کیونکہ اس تخصیص کا مطلب یہ ہوا کہ آئندہ ایک خاص زمانہ میں بعض اہل کتاب ایمان لے آویں گے حالانکہ بعض اہل کتاب تو ہر زمانہ میں ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ علاوہ یہ کہ اگر اسکے بر عکس تخصیص مانی جاوے تو وہ نسخ ہوا جاتا ہے تخصیص نہیں رہتی اور نسخ اخبار میں عند الاصولیین درست نہیں ہے۔ ایہا الناظرین مولوی صاحب نے اس مسئلہ میں غور نہیں فرمایا اس واسطے اشتباه والتباس واقع ہو گیا کہ جو آیت خاص تھی اور شخص ہو سکتی تھی اس کو عام قرار دے دیا اور جو آیت کہ عام تھی اس کو خاص یا مخصوص فرما دیا۔ فتأملوا وانظروا واعتبروا یا اولی الابصار۔ قوله دوم احادیث صحیح سے ثابت ہے الخ ۔ اقول ۔ مولوی صاحب آیت کا تو یہ مفہوم ہے کہ مومنین متبعین قیامت تک فائق رہیں گے اور کا فرقیامت تک مغلوب رہیں گے اور مضمون احادیث کا یہ ہے کہ وقت قیام قیامت کے سب شریر رہ جاویں گے ان دونوں مفہوموں میں کسی طرح کا تعارض نہیں معلوم ہوتا جو تخصیص یا نسخ کے طور پر ان دونوں مفہوموں میں توفیق کی جاوے ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ دفعہ واحدۃ جملہ مومنین متبعین کو اللہ تعالی اپنی طرف اٹھالے اور بقیہ يوسف :۲۱۰۴ هود : ۱۲۰۱۱۹