اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 284
۲۸۴ در الحق مباحثہ دہلی روحانی خزائن جلدم ۱۵۴) تھک جاوے اور پھر مع هذا اس تخصیص در تخصیص کا نام پورا حصر رکھا جاوے پورے حصر کے معنے تو استغراق جمیع افراد سے حاصل ہوتے ہیں نہ تخصیص در تخصیص سے یہ بھی ایک اصطلاح جدید علم اصول فقہ کی جناب نے پیدا کی ہے إِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عُجَاب قــولــه بلکه به تو مقتضی نون ثقیلہ ولفظ بعد موتہ کا ہے جو کلام الہی میں واقع ہوا ہے الخ ۔ اقول مولا نا اب تو سرے سے مقتضی ہی نہ رہا۔ پھر مقتضی کہاں ہوسکتا ہے اور پھر یہ کیونکر ہو سکے گا کہ ادھر تو الفاظ عموم در عموم کے بیان کئے جاویں اور اُدھر خصوص در خصوص مراد ہو یہ تو تناقض ہوا جاتا ہے و تعالــي كـلام الـلـه عن ذلك علوا كبير ا۔ واضح ہو کہ مولوی صاحب کی عبارت میں لفظ بعد موته غلط لکھا گیا ہے قرآن مجید میں قبل موتہ ہے اور چونکہ لفظ احمد کامل درجہ کا نکرہ ہے لہذا اس کی نفی حسب قواعد نحو علم بلاغت کے بحرف انی کامل استغراق کو ہوگی جو جناب کے مدعا کے مخالف ہے قولہ اور ایسا ہی ان کا یہ فرمانا الخ ۔ اقول مولانا صاحب ظاہر ہے کہ آیت وَ اِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ واسط حیات مسیح کے مسوق نہیں ہے جو حیات میں نص ہو بلکہ حیات کا تو اس میں ذکر بھی نہیں موت کا ہی ذکر ہے پس جناب کا استدلال کرنا اس آسیہ سے بطور اشارۃ النص وغیرہ کے ہوگا ۔ پس جملہ اہل کتاب کا ایمان لانا قبل موت مسیح بن مریم کے آپ کے استدلال کا ایک مقدمہ ہوا اور اس مقدمہ کی نسبت اب آپ ایسا کچھ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس مقام پر نہ میں مدعی ان کے ایمان کا ہوں اور نہ مدعی اس امر کا کہ مراد ایمان سے یقین ہے مقصود اس مقام پر صرف رفع تناقض ہے جو آپ نے درمیان آیت و احادیث کے سمجھا ہے۔ فقط اقول مولانا یہ تو سب آپ کی دلیل کے مقدمات تھے جب کہ اثبات مقدمات اپنی دلیل سے دست بردار ہو گئے تو پھر دلیل دلیل کب قائم رہ سکتی ہے کیونکہ دلیل موقوف اثبات مقدمات پر ہوتی ہے مثل ثبست العرش ثم انقش ۔ اور رفع تناقض اگر منظور تھا تو ایسی وجوہ سے رفع فرمایا جاتا جس میں اور مفاسد پیدا نہ ہوتے ۔ یہاں پر تو آپ کی رفع تناقض سے اور مناس پیدا ہو گئے حتی کہ بسبب انہیں مفاسد کے آپ خود اثبات مقدمات دلیل اپنی سے دست بردار ہو گئے پھر دلیل کیونکر دلیل باقی رہی کہ المقدمة ما يتوقف عليه صحة الدليل اعم من ان يكون جزءا من الدليل ام لا ۔ اب آپ ہی انصاف سے فرمائیے کہ آپ جو اس جگہ میدان اور حکیم نورالدین صاحب کو حکم تسلیم کرتے ہیں تو اب یہ ہیچمدان اور حکیم نورالدین کیا فیصلہ کریں گے بجز ا سکے کہ جو آپ نے خود ارشاد فرما دیا اور اپنے مقدمہ دلیل سے دستبردار ہو گئے ۔ پس دلیل بھی دلیل نہ رہی ۔ قوله اول یہ کہ آیت وَإِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتبِ میں صاف وعدہ ہے الخ اقول مولوی صاحب نے مسئلہ شیخ اور تخصیص میں خلط ملط کر دیا لہذا اولاً یہ میچمدان تعریف عام و خاص کی اور جو تخصیص و شیخ میں فرق ہے علم اصول سے لکھتا ہے تاکہ ناظرین کی سمجھ میں بخوبی ص : ٦ ٢ النساء : ١٦٠