اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 282

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۸۲ الحق مباحثہ دہلی ۱۵۲ مگر ثانیا آپ جو فرماتے ہیں کہ اس کارڈ منوط ہوگا ۔ قوله امر آخر پر جس کا ذکر اوپر ہو چکا الخ۔ اقول اس رد کا جواب ہیچمد ان کی تقریر سے اوپر ہو چکا پس فیصلہ شد۔ قولہ میرا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ سمجھے ہیں الحج ۔ اقول آپ کی خاطر سے ہم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آپ کا مطلب صرف اس قدر ہی ہے کہ یہ معنی جو میں نے اختیار کئے ہیں اس طرف ایک جماعت سلف میں سے گئی ہے مگر یہ تو ارشاد ہو کہ جب آپ کے معنے کی طرف صرف ایک ہی جماعت گئی ہے اور دیگر جماعات صحابہ وتابعین اور ہزار ہا مفسرین محققین دوسرے معنوں کی طرف گئے ہیں اور ان معنوں کو بہ براہین مبرہن کیا ہے اور آپ کے معنوں کو مرجوح طور پر بیان کرتے ہیں تو کیا آپ کے اختیار کر لینے سے ایک معنے مرجوح کو وہ معنی قطعی الدلالت ہو سکتے ہیں جو آپ کے غیر پر حجت قطعی ہو سکیں ایسے معنی مرجوح کو اختیار کر کر اپنے غیر پر حجت قطعی گردانا یہ تو صریح ایک تحکم ہے ۔ قولہ ۔ میری ادلہ کا قوی ہونا الخ ۔ اقول ان اللہ کا أَوْ هَنُ مِنْ بَيْتِ الْعَنْكَبُوت ہونا ثابت ہو چکا ۔ پس یہ آپ کا فرما آپ کا فرمانا بجائے خود نہیں ہے۔ قولہ آپ نے نون ثقیلہ کے بارہ الخ ۔ اقول آیات محکمات جونون ثقیلہ کے بارہ میں لکھی گئی ہیں معہ حوالہ تفاسیر کے وہ قیامت تک قائم رہیں گی اور جو کوئی ان کا مقابلہ کرے گا وہ هَبَاءً مَّنثُورًا ہو جاوے گا ۔ قال الله تعالى إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ ، قوله جب یہ امر ثابت ہو گیا الح اقول یہ امر ثابت نہیں ہوا کہ نون تاکید جو معہ لام تاکید کے مضارع میں داخل ہو التزاماً وہ خالص زمانہ استقبال کیلئے کر دیتا ہے تو پھر تم کیونکر قائم نہ رہے گی ۔ قولہ آپ نے ان معنے کی تقریر میں جو میرے نزدیک متعین ہیں تھوڑی سی خطا کی ہے ان اقول یہ معنی غیر صحیح ہیں کیونکہ اس صورت میں ایک ایسے لفظ کی تخصیص جس میں عموم در عموم ہے بلا وجود مخصص کے کرنی پڑتی ہے اوّل تو لفظ اہل کتاب کا ایک ایسا عام لفظ ہے جو ہر زمانہ کے اہل کتاب کو شامل ہے جو اہل کتاب کہ اس بات کے قائل تھے کہ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ " اور جو مصداق ہیں إِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيْهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْه " ان سے لے کر آنحضرت صلعم کے وقت کے اہل کتاب اور جو قیامت تک موجود ہوں گے سب کو شامل ہے ایک عموم تو یہ ہوا اور دوسرا عموم یہ ہے کہ من اهل الكتاب ترکیب نحوی میں صفت واقع ہوا ہے احمد مقرر کی پھر احد جو نکرہ محضہ ہے خبر نفی میں واقع ہوا ہے جو مفید استغراق ہے ارشاد الفحول میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ النكرة في النفى تعم سواء دخل حرف النفي على فعل نحو ما رأيت رجلا او على الاسم نحو لارجل في الدار ولولم يكن لنفى العموم لما كان قولنا لا اله الا الله نفيا لجميع الآلهة سوى الله سبــخــنـــه فتقرر ان المنفية الحجر: ۱۰ ۲-۳ النساء: ۱۵۸