اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 280

۲۸۰ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ۱۵۰ من حسن اسلام المرء ترکه مالا یعنیہ کا مضمون بھی تو پیش نظر حضرت اقدس کے رہتا ہے اور اس پر بھی آخر پر چہ سوم میں یہ بھی تحریر فرما دیا گیا کہ اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد جب پبلک کی طرف سے منصفانہ رائیں شائع ہوں گی اور ثالثوں کے ذریعہ سے صحیح رائے جو حق کی موید ہو پیدا ہو جائے گی تو اس تصفیہ کے بعد آپ تحریری طور پر دوسرے امور میں بھی بحث کر سکتے ہیں لیکن اس تحریری بحث کیلئے میرا اور آپ کا دیلی میں مقیم رہنا ضروری نہیں جب کہ تحریری بحث ہے تو دور رہ کر بھی ہوسکتی ہے میں مسافر ہوں اب مجھے زیادہ اقامت کی گنجائش نہیں فقط ۔ ایہا الناظرین باوجود اس کے مولوی صاحب کا بھوپال میں واپس تشریف لاکر بر ملا مجالس وعظ وغیرہ میں ہر کہ ومہ کے سامنے یہ اشتہار دینا کہ حضرت اقدس مرزا صاحب مقام دہلی سے میرے مقابل نہ ٹھہر سکے اور گریز کر گئے کیسا اپنے موقع اور کل پر ہے فاعتبروا یا اولی الابصار باقی تر جمعین کے الفاظ جو بلفظ استقبال ترجمہ کئے گئے ہیں ان سے مراد دوام تجددی ہوسکتا ہے كما مر غير مرة قوله اول یہ کہ الخ۔ اقول آیت میں حرف فاء جو واسطے ترتیب بلا مہلت کے آتا ہے موجود ہے۔ پس جس وقت کوئی شخص مرد ہو یا عورت عمل نیک کرے در حالیکہ وہ مومن ہو تو اسکے واسطے بلا مہلت حیوة طبيبة متحقق ہو جاتی ہے ورنہ حرف فا والغو ہو جاوے گا۔ تفسیر ابن کثیر سے جو آپ نے معنے نقل فرمائے وہ بھی اسی مطلب کو ثابت کر رہے ہیں دیکھو اس میں صاف لکھا ہے کہ بان يحيى الله حيوة طيبة في الدنيا ہاں البتہ لَنَجْزِيَنَّهُمْ کو صاحب تفسیر ابن کثیر نے واسطے حاصل ہونے تاسیس کے آخرۃ کے واسطے لکھا کیونکہ یہ ایک مسئلہ علم بلاغت کا ہے کہ التاسيس خير من التاكيد ہم بھی یہاں استقبال ہی تسلیم کرتے ہیں مگر یہ حضرت مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ کے قاعدہ نون ثقیلہ کے نقص کے واسطے تو صرف ایک صیغہ قرآن مجید کا جو واسطے حال یا استقبال یا استمرار کے آیا ہو کافی ہے کیونکہ آپ التزاماً ہر جگہ ایسے صیغے میں استقبال مراد لیتے ہیں پس موجہ کلیہ کا نقیض سالبہ جزئیہ ہی آتا ہے جو یہاں صادق ہے پس موجبہ کلیہ غیر صادق ہوگا۔ اور حضرت مرزا صاحب ایسے صیغے میں صرف زمانہ حال یا خالص استقبال یا فقط استمرار التزاماً ہر جگہ مراد نہیں لیتے بلکہ بحسب مقتضائے مقامات مناسبہ کہیں حال مراد ہوتا ہے اور کہیں استقبال اور کسی جگہ دوام تجد دی مراد ہوتا ہے پس اس مسلک کے نقص کے واسطے کتنے ہی صیغے آپ ایسے نقل فرمائیں جن میں خالص استقبال مراد ہو تو حضرت اقدس کے صراط مستقیم کو کچھ مضر نہیں کیونکہ وہ التزاما کوئی خاص ایک زمانہ ایسے صیغے میں ہر جگہ مراد نہیں لیتے ۔ قولہ یہاں استقبال مراد ہے بچند وجوہ اول یہ کہ الخ ۔ اقول لا نسلم اما اولا آنکہ العبرة