اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 278
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۷۸ الحق مباحثہ دہلی ۱۳۸) بحسب الافعال و مفوض الى العرف ـ قوله ارادہ حال اس آیہ میں بھی غلط ہے الخ اقول در حالیکه استقبال قریب کے آپ بھی قائل ہیں اور کتب علم بلاغت مطول وغیرہ سے ثابت ہو چکا کہ زمانہ حال ایک امر عرفی ہے اور اس کی مقدار باعتبار افعال کے مختلف ہے اور اسی وجہ سے مفوض الی العرف ہے تو یہ بحث جناب کی ایک نزاع لفظی ہو گئی ہے جس کا بار بار تکرار کیا جاتا ہے جو آپ کی شان سے نہایت بعید ہے اور میں حیران ہوں کہ ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب کو جو بلفظ مضارع ہے آپ کیوں اس کو خالص استقبال قرار دیتے ہیں اور ذرہ متنبہ نہیں ہوتے اور اس پر طرہ یہ ہے کہ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کو جو ابھی جلا دیں گے ہم اس کو ہے خالص استقبال کس طرح فرماتے ہیں ۔ لفظ ابھی تو خالص حال کے واسطے آتا ہے۔ اِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عُجَابٌ لان هذا الفهم بعيد عن الصبي فضلا عن الفاضل الذي هو نائب النبي قوله واضح ہو الح اقول حضرت اقدس مرزا صاحب ان معنوں کے لینے میں ہرگز منفر د نہیں تمام سلف وخلف امت بعض ان آیات کو حال پر اور بعض کو استمرار پر محمول کرتے چلے آتے ہیں کما مر تفصيله قوله اول یہ کہ ان اقول جزاكم الله في الدارين خیرا ۔ کہ جناب نے اس امر کو تو تسلیم فرما لیا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت مستمرہ ہے کہ مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہیں مدام دکھلایا کرتا ہے فقط ۔ اور یہ مسئلہ کتب علم بلاغت سے ثابت ہو چکا ہے کہ صیغہ مستقبل کا بحسب مقامات مناسبہ کے دوام تجددی اور استمرار کے واسطے مستعمل ہوا کرتا ہے۔ پس اب گزارش یہ ہے کہ کیا وجہ کہ اس آیت کے ایسے ناقص اور ادھورے معنے کئے جاویں جو اس عادت مستمرہ کو شامل نہ ہوویں حالانکہ کتاب اللہ بلاغت میں طرف اعلیٰ حدا اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے اور حضرت نبی علیہ السلام فرماتے ہیں اوتیت جوامع الکلم اور سلمنا کہ آیت وعدہ ہے لیکن وعدہ کو زمانہ حال یا استمرار سے کچھ منافات نہیں ہے کیونکہ وعدہ زمانہ حال کے واسطے بھی کیا جاتا ہے اور بطور استمرار کے بھی وعدہ ہو سکتا ہے جیسا کہ حضرت اقدس نے مشرحاً بیان فرمایا ہے۔ اور حضرت اقدس نے جو معنی دوم کی تائید میں تصحیح خالص استقبال کی کی ہے وہ صرف جناب کی خاطر سے کی ہے۔ بقول شخصے کہ خصم را تا بخانه باید رسانید ۔ چنانچہ الفاظ حضرت اقدس کے اس پر دال ہیں جو جناب نے بھی نقل فرمائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ کیا استقبال کے طور پر یہ دوسرے معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا ۔ قوله - دوم یہ کہ الخ - اقول مولانا شاہ ولی اللہ صاحب کے الفاظ مضارع لاص : 1