اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 278

۲۷۸ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ۱۳۸) بحسب الافعال و مفوض الى العرف - قوله اراده حال اس آیہ میں بھی غلط ہے الخ اقول در حالیکه استقبال قریب کے آپ بھی قائل ہیں اور کتب علم بلاغت مطول وغیرہ سے ثابت ہو چکا کہ زمانہ حال ایک امر عرفی ہے اور اس کی مقدار باعتبار افعال کے مختلف ہے اور اسی وجہ سے مفوض الی العرف ہے تو یہ بحث جناب کی ایک نزاع لفظی ہوگئی ہے جس کا بار بار تکرار کیا جاتا ہے جو آپ کی شان سے نہایت بعید ہے اور میں حیران ہوں کہ ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب کو جو بلفظ مضارع ہے آپ کیوں اس کو خالص استقبال قرار دیتے ہیں اور ذرہ متنبہ نہیں ہوتے اور اس پر طرہ یہ ہے کہ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کو جو ابھی جلا دیں گے ہم اس کو ہے خالص استقبال کس طرح فرماتے ہیں ۔ لفظ ابھی تو خالص حال کے واسطے آتا ہے ۔ اِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عُجَابٌ لان هذا الفهم بعيد عن الصبي فضلا عن الفاضل الذي هو نائب النبي قوله واضح ہو الخ اقول حضرت اقدس مرزا صاحب ان معنوں کے لینے میں ہرگز منفر د نہیں تمام سلف وخلف امت بعض ان آیات کو حال پر اور بعض کو استمرار پر محمول کرتے چلے آتے ہیں كـمـا مـر تفصيله قوله اول یہ کہ الخ اقول جزاكم الله فی الدارین خیرا ۔ کہ جناب نے اس امر کو تو تسلیم فرما لیا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت مستمرہ ہے کہ مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہیں مدام دکھلایا کرتا ہے فقط ۔ اور یہ مسئلہ کتب علم بلاغت سے ثابت ہو چکا ہے کہ صیغہ مستقبل کا بحسب مقامات مناسبہ کے دوام تجد دی اور استمرار کے واسطے مستعمل ہوا کرتا ہے۔ پس اب گذارش یہ ہے کہ کیا وجہ کہ اس آیت کے ایسے ناقص اور ادھورے معنے کئے جاویں جو اس عادت مستمرہ کو شامل نہ ہو وہیں حالانکہ کتاب اللہ بلاغت میں طرف اعلی حدا اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے اور حضرت نبی علیہ السلام فرماتے ہیں اوتیت جوامع الکلم اور سلمنا کہ آیت وعدہ ہے لیکن وعدہ کو زمانہ حال یا استمرار سے کچھ منافات نہیں ہے کیونکہ وعدہ زمانہ حال کے واسطے بھی کیا جاتا ہے اور بطور استمرار کے بھی وعدہ ہو سکتا ہے جیسا کہ حضرت اقدس نے مشرحا بیان فرمایا ہے۔ اور حضرت اقدس نے جو معنے دوم کی تائید میں تصحیح خالص استقبال کی کی ہے وہ صرف جناب کی خاطر سے کی ہے۔ بقول شخصے کہ خصم را تا بخانه باید رسانید ۔ چنانچہ الفاظ حضرت اقدس کے اس پر دال ہیں جو جناب نے بھی نقل فرمائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ کیا استقبال کے طور پر یہ دوسرے معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔ قولہ ۔ دوم یہ کہ الخ ۔ اقول مولانا شاہ ولی اللہ صاحب کے الفاظ مضارع ص : ٦