اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 277
روحانی خزائن جلدم هذه الاية و رسول الله صلى الله ۔ ۲۷۷ عليه وسلم في مسجد بـ الحق مباحثہ دہلی بنی سلمة و قدصلى ۱۴۷ بــاصـحــابـه ركعتين من صلوة الظهر فتحول فى الصلوة واستقبل الميزاب وحوّل الرجال مكان النساء والنساء مكان الرجال فسمى ذلك المسجد مسجد القبلتين كذا ذكره البغوى ثم قال وقيل كان التحويل خارج الصلوة بين الـصـلـوتـيـن ورجح الواقدى الاول وقال هذا عندنا اثبت ذكره في المظهرى وقال فيه ايضا فحديث البراء محمول على ان البراء لم يعلم صلوته صلى الله عليه وسلم في مسجد بني سلمة الظهر او المراد انه اول صلوة صـلاهـا كـاملا الى الكعبة انتهى واللہ اعلم ۔ اور اگر مولوی صاحب اسی بیضاوی کی طرف جس سے یہاں پر کچھ تھوڑا سا نقل عبارت کیا آخر عبارت تفسیر آیت تک رجوع فرماتے تو یہ مطلب اسی سے واضح ہو جاتا ۔ قال البيضاوى روى انه عليه السلام قدم المدينة فصلى نحو البيت المقدس ستة عشر شهرا ثم وجهه الى الكعبة في رجب بعد الزوال قبل قتال بدر بشهرين و قد صلى باصحابه في مسجد بني سلمة ركعتين من الظهر فتحول فى الصلوة واستقبل الميزاب و تبادل الرجال والنساء صفو فهم فسمى المسجد مسجد القبلتین ۔اور ایسا ہی فتح البیان وغیرہ میں لکھا ہے۔ اور مشی عبدالحکیم نے جو فول وجھک کو انجاز وعدلکھا تو اس نے یہ کب کہا ہے کہ اس انجاز وعد میں فاصلہ قصیر یا طویل زمانہ کا واقع ہوا ہے ایفائے وعد کو زمانہ حال جس کی مقدار مفوض الى العرف ہے کچھ منافی نہیں اور یہ جو آپ فرماتے ہیں کہ اس تقدیر پر فَوَل وَجْهَكَ زاید ولا طائل ہو جاوے گا تو گزارش یہ ہے کہ آیت فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ متعدد جگہ موجود ہے آپ کے مسلک پر وہ بھی زاید ولا طائل ہوئی جاتی ہے ۔ فما هو جوابكم فهو او فكذا جوابنا اور شاہ ولی اللہ صاحب کے ترجمہ میں جو متوجہ گردانیم لفظ مضارع کیا گیا ہے وہ زمانہ حال و استقبال دونوں کو شامل ہے یہ جناب والا کا کمال فہم ہے کہ لفظ مضارع کو خالص استقبال کے واسطے فرماتے ہیں اور تراجم اردو میں جو تر جمہ بلفظ استقبال کیا گیا اس سے استقبال قریب مراد ہے جس کے آپ بھی قائل ہیں ہم اسی کو حال کہتے ہیں ۔ کتب علم بلاغت سے ثابت ہو چکا کہ مقدار زمــان الــحـــال مـختلف