اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 275

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۷۵ الحق مباحثہ دہلی ہیچمدان نے یہ دو تین آیتیں واسطے توضیح قاعدہ استدلال مولوی صاحب کے بطور مثال کے لکھ دیں ۱۴۵ تا کہ ہر ایک ادنیٰ طالب علم جو ترجمه خوان قرآن مجید ہو حیات مسیح پر قرآن شریف سے بہت سی آیات قطعی الدلالت استخراج کر سکے ۔ قوله سوم یہ کہ یہ قراءت غیر متواترہ ہے الخ اقول قراءت غیر متواترہ سے احتجاج نہیں کیا گیا بلکہ قراءت غیر متواترہ صرف واسطے تائید معنی قراءت متواترہ کے حسب اصول مفسرین لائی گئی ہے چنانچہ تمام مفسرین محققین اس قراءت غیر متواترہ کو واسطے تائید معنے قراءت متواترہ کے اپنی تفاسیر میں لائے ہیں اسی طرح پر حضرت اقدس مرزا صاحب اس قراءت غیر متواترہ کو واسطے تائید معنے قراءت متواترہ کے لائے ہیں اور جناب والا نے جو روایات اس کل اپنے مباحثہ میں بیان و نقل فرمائی ہیں ان کی رجال اسانید کی کچھ بھی توثیق و تعدیل بیان نہیں فرمائی ۔ کیا یہ وجوب حضرت مرزا صاحب پر ہی ہے آپ پر واجب نہیں کہ اس مقام تحقیق میں ان رجال اسانید کی توثیق و تعدیل حسب اصول علم اسماء الرجال بیان فرماتی و دونــه خــرط القتاد - أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ قوله - چہارم یہ کہ مرزا صاحب الح اقول آیت مذکورہ چونکہ ذوالوجوہ ہے اس واسطے حضرت اقدس نے اس کو دوسری وجہ سے بھی تفسیر فرمایا ہے یعنی قبل موتہ کی ضمیر کو حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف بھی راجع کر کر وہ تفسیر کی ہے اور وہ معنے بیان کئے ہیں کہ جن پر کسی طرح کا اعتراض وارد نہیں ہوتا ایسی آیات ذوالوجوہ کی تفسیر مختلف وجوہ سے کرنا ایک فقہ محمود ہے قال ابو الدرداء لا يفقه الرجل حتى يجعل للقرآن وجوها ـ اور جناب کی طرح حضرت اقدس نے ایسی آیت ذوالوجوہ کو ایک وجہ میں محصور کر کر قطعی الدلالت ایک وجہ پر نہیں فرمایا ۔ اور در صورت ارجاع ضمیر کی طرف حضرت عیسی علیہ السلام کے جو معنے آیت کے آپ کرتے ہیں اس پر طرح طرح کے اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔ پس کیا یہی مقتضائے دیانت و انصاف ہے کہ جو معنے انواع انواع اعتراضات کے مورد ہوں ان پر تو اصرار کیا جاوے اور جو معنے خالی از فساد ہوں ان کو تسلیم نہ کیا جاوے۔ الحاصل در صورت ارجاع ضمیر کی طرف حضرت عیسی کے اگر آپ وہ معنے جو حضرت اقدس نے ازالہ میں تحریر فرمائے ہیں تسلیم و قبول فرماتے ہیں تو فنعم الوفاق سب نزاع طے ہو گیا اور اگر ان معنے خالی از فساد کو آپ تسلیم نہیں فرماتے تو اس وجہ سے کہ آپ کے معنے مورد اعتراضات کثیرہ ہیں ارجاع ضمیر حضرت عیسی کی طرف بسبب ان فسادات کے نہیں ہو سکتا کتابی یا احد مقدر کی طرف ضمیر رجوع ہووے گی البقرة : ۴۵