اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 273
۱۳ روحانی خزائن جلدم ۲۷۳ الحق مباحثہ دہلی اس و جوب ولزوم نحوی کے آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ عبارت إِلَّا يُؤْمِنُ نہایت ہی عمدہ ہے ایسی عمدہ عبارت کو چھوڑ کر بجائے إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ اختیار کرنا ہر گز نہیں چاہئے تھا۔ ان هذا لشيء عجاب اور اگر کوئی کہے۔ کہ لیؤمنن میں بھی حرف تحضیض موجود نہیں ہے۔ پھر اس کو بیضاوی وغیرہ نے صیغہ خفیض کا کیوں قرار دیا ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ اول تو بیضاوی نے ليؤمنن کو صیغہ تحریض کا نہیں کہا صرف کا لوعید والتحریض کہا ہے۔ ثانیاً وجہ اس کی یہ ہے کہ مضارع مصدر بحرف تفیض میں جو تفیض ہوتی ہے اس میں طلب ضرور ہوتی ہے۔ چنانچہ فوائد ضیائیہ میں لکھا ہے۔ ومـعـنـاهـا فـي المضارع الحض على الفعل والطلب له فهي في المضارع بمعنى الامر ۔ اور نون تاکید بھی امر مطلوب کی ہی تاکید کرتا ہے تکملہ وغیرہ میں لکھا ہے کہ نون التاكيد لايوكد الا مطلوبا۔ پس اس مناسبت سے بیضاوی نے صیغہ لیو منن کو کالوعيد والتحريض قرار دیا ہے بخلاف صرف یؤمن کے کہ وہ کسی طرح پر صیغہ تحریض کا نہیں ہوسکتا ہے یہ مولانا صاحب کا بڑا تحکم ہے کہ ایک قاعدہ اپنی طرف سے ایجاد فرما کر پھر اسکے بموجب قرآن مجید میں اصطلاح لگائی جاتی ہے۔ باقی اس اقول کا مقوله آخر تک جو بیان فرمایا گیا ہے وہ محض بناء فاسد على الفاسد ہے جس کا جواب اظهارا للصواب مکر رسہ کر ر گذر چکا ہے۔ اب ضرورت اعادہ جواب کی نہیں ہے قولہ اس میں کلام ہے بچند وجوہ اول یہ کہ الخ۔ اقول جناب والا بار بار وہی ایک بات فرمائے جاتے ہیں جس کا ابطال حضرت اقدس مرزا صاحب بدلائل بینہ فرما چکے ہیں ۔ قولہ دوم یہ کہ یہ قراءت ہمارے معنے کے مخالف نہیں ہے۔ الخ۔ اقول اول تو زمانہ نزول کا مراد لینا آپ کے اقرار مندرجہ اول پر چہ کے خلاف ہے اقرار یہ ہے کہ اس بحث میں صعود ونزول وغیرہ کا خلط نہ کیا جاوے گا۔ تانیا آپ کی طرز استدلال کے بموجب صرف اس آیت لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ موتہ کے قطعی الدلالت ہونے کی کیا وجہ ہے۔ تمام قرآن شریف کے وہ صیغے مندرجہ آیات جن میں ایمان لانے کا ذکر یا کسی اور امر معروف کی پیشین گوئی زمانہ آئندہ میں ہے وہ سب آیات حیات مسیح پر قطعی الدلالت ہو گئیں۔ تقریر اس کی بموجب استدلال جناب کے یوں ہو سکتی ہے۔ کہ یہ معنے ہمارے معنے کے مخالف نہیں ہیں کیونکہ اس صورت میں یہ معنے ہیں کہ ہر ایک شخص اپنے مرنے سے پہلے زمانہ آئندہ میں ایمان لے آوے گا اور یہ معنے اول کے ساتھ