اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 268

روحانی خزائن جلدم ۲۶۸ الحق مباحثہ دہلی ۱۳۸) نون تاکید ۔ اس کو تو حضرت اقدس نے ایسا تو ڑا ہے کہ اس سے زیادہ ہرگز متصور نہیں کیونکہ اس بات کو سب علماء وطلبہ جانتے ہیں کہ تمام اصول علوم رسمیہ کے اور جملہ قواعد اور فنون درسیہ کے جو کتب فن میں ممہد اور مشید کئے جاتے ہیں ان کے اثبات اور استحکام کے واسطے شواہد قرآن مجید سے بڑھ کر اور کوئی شاہد نہیں ہے نہ امثال و اشعار جاہلیت کا وہ مرتبہ ہے اور نہ اقوال عرب عربا ء کا وہ رتبہ مثل مشہور ہے کہ اذاجاء نهر الله يبطل نھر معقل جس قاعدہ کے واسطے کوئی آیت قرآن مجید کی شاہدیل جاوے تو پھر اس میں نہ سیبویہ کی حاجت ہے نہ انفش کی نہ فرا کی ضرورت ہے نہ زجاج کی اس جگہ سب فر يَفِرُّ ہو جاتے ہیں اور اسکے مقابل میں زجاج زجآج بھی ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے اور قول مبر بھی محض بار د ہو جاتا ہے الصباح يغني عن المصباح کا مضمون صادق آتا ہے۔ قرآن مجید میں جب کہ بقراءت متواتره وَالْمُقِيمِينَ الصَّلوةَ بجاۓ والمقيمون الصلوة وارد ہو گیا اور ان لهذين لسحرن بجاۓ ان هذين لساحرین اور والصيتُونَ کے بجائے والصابئين قراءت متواترہ میں آ گیا۔ تو نہ فسرا کی چلی نہ انفش کی۔ سب کے سب تاویلات رکیکہ بنارہے ہیں اور کچھ نہیں ہوسکتا اور اصل وہی ہے جو حکیم امت حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے فرمایا کہ مخالف روزمرہ مشہورہ ہم روز مره است الحاصل یه جناب والا کا بھی اقرار ہے جو پرچہ ثالث میں مندرج ہے کہ اصول فقہ اور اصول حدیث جملہ علوم خادم کتاب و سنت کے ہیں اور کتاب اللہ سب کی مخدوم ہے۔ اب یہ گذارش ہے کہ با وجود یکه حضرت اقدس مرزا صاحب نے متعدد آیات قرآن مجید اور عبارت تفاسیر معتبرہ سے واسطے جرح کرنے آپ کے نون تاکید کے تحریر فرمائی ہیں ۔ پھر آپ یہ کیا معمے فرماتے ہیں کہ جناب مرزا صاحب نے نہ تو کوئی عبارت کسی کتاب محو کی نقل کی اور نہ ان عبارات میں جو خاکسار نے نقل کی تھیں کچھ جرح کی ۔ اِنَّ هَذَا لَشَيْءٍ عُجَابٌ " قولہ اور یہ امر بھی مخفی نہ رہے کہ میری اصل دليل الى قولہ دوسری آیات محض تائید کیلئے لکھی گئی ہیں الخ ۔ اقول جب کہ آیت لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِه ٥ جناب کے نزدیک قطعی الدلالت ہے تو دیگر مؤیدات کے پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے اس سے ثابت ہوا کہ آیت مذکور جناب کے نزدیک قطعی الدلالت نہیں ہے ور نہ تائید کی کیا ضرورت ہوتی ہذا خلف ۔ خلاصہ یہ کہ اگر آیت مذکورہ کو قطعية الدلالت کہتے ہو تو دیگر مؤیدات کی ضرورت نہیں اور اگر تائید اس کی دوسری آیات سے کرتے ہو تو خود وہ آیت ل النساء :١٦٣ المائدة : ٧٠ ٢ ص : ٦ ه النساء : ١٢٠