اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 265
۲۶۵ الحق مباحثہ دہلی روحانی خزائن جلدم معنے جو لکھے گئے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اصل معنے توفی کے پورا حق لے لینے کے ہیں ۔ تو اس سے ۱۳۵ ہے مدعا جناب کا کب ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کو نسا حق اپنا حضرت عیسیٰ سے پورا لیا تھا۔ جس کی نسبت فرمایا گیا کہ یا عیسی انی متوفیک لینے اے میسی میں تجھ سے اپنا حق پورا لینے والا ہوں۔ یا حضرت عیسی نے جو یہ فرمایا کہ فلما تو فیتنی یعنی جبکہ تو نے اپنا حق پورا لے لیا۔ یہ معنے ہیچمدان کی سمجھ میں بالکل نہیں آتے اور ایک تحریف سی معلوم ہوتی ہے اور اگر کہا جاوے کہ توفی کے معنے میں جو لفظ حق کا لکھا ہے اُس سے تجرید کر لی گئی ہے اور قبض تام کے معنے بھی آتے ہیں۔ چنانچہ قسطلانی سے ہم نے نقل کیا کہ اخذ الشئ وافیا تو یہاں پر یہ معنے ہوئے کہ حضرت عیسی کو روح مع الجسد سے پورا لے لیا تو یہ گزارش ہے کہ نص میں اس تاویل رکیکہ کی ضرورت ہی کیا ہے علاوہ یہ کہ قسطلانی نے بھی خود اقرار کر لیا کہ والموت نوع منه اس اقرار سے تو صاف و صریح ثابت ہو گیا کہ موت میں بھی قبض تام ہوتا ہے وهذا يخالف دعوا کم پس قسطلانی سے بھی یہی ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ کی وفات ہو چکی روح مع الجسد کا اُٹھایا جانا تو کسی لغت سے بھی ثابت نہ ہوا اور سلّمنا کہ توفی بمعنے انامت یعنے سُلا دینے کے قرآن مجید سے ثابت ہے مگر اس معنی کے اثبات سے ما نحن فيه میں جناب کا کیا مطلب ہے بلکہ جو آیات کہ جناب نے واسطے اثبات اس اپنے مطلب کے ذکر فرمائی ہیں وہ بھی مدعا جناب کے مخالف ہیں کیونکہ بموجب ان آیات کے معنے توفی کے اگر انامت کے مانحن فیہ میں تسلیم بھی کئے جاویں تو پھر بھی آیات مدعا جناب کو نفی بھی کرتی ہیں کیونکہ اگر حضرت عیسی کی توفی بطور ا نامت کے واقع ہوئی ہوتی تو ضرور تھا کہ پہر دو پہر میں حد درجہ ایک دو دن میں جاگ اُٹھتے اور وَيُرْسِلُ الأخرى لے کا مضمون پیدا ہو جاتا یہ کیسی انامت ہوئی کہ قریب دو ہزار برس کے ہو گئے ابھی تک وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى کا مضمون واقع نہیں ہوا۔ اس سے تو صریح یہی معلوم ہوا کہ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ " کا ہی مضمون واقع ہو چکا ہے۔ آیت میں دو صورتیں مذکور ہیں ایک ارسال دوسری امساک در صورت انامت کے ارسال واقع ہوتا ہے اور در صورت موت کے امساک جب ہم دیکھتے ہیں کہ قریب دو ہزار برس سے امساک ہی امساک ہے اور ارسال نہیں ہے تو بالضرور ماننا پڑے گا اس صورت کو جس میں امساک ہوتا ہے اور وہ موت ہے نہ انا مت اور سورہ انعام کی آیت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کیونکہ اُس میں ١- الزمر : ۴۳ الزمر : ۴۳