اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 255
روحانی خزائن جلدم ۲۵۵ الحق مباحثه دیلی زمانه حال و استقبال مراد الہی ہیں زمانہ استقبال کی کوئی تخصیص ضروری نہیں ہے اسی واسطے (۱۳۵) ترجمہ اسکا مولانا شاہ ولی اللہ صاحب نے بلفظ مضارع کیا ہے۔ والبتہ بشناسی ایشاں را در اسلوب سخن - آیت لَتُبْعَثُنَ ثُمَّ لَتُتَبَّونَ بِمَا عَمِلْتُم اگر صرف زمانہ استقبال ہی مراد مان لیا جائے تو حضرت اقدس مرزا صاحب کو کچھ مضر نہیں زمانہ حال کا ارادہ اُن کے نزدیک لازم اور واجب نہیں اور اس آیہ میں جو خالص زمانہ استقبال مراد ہوا تو اس کا سبب یہ ہے کہ سیاق آیت میں قرائن صارفہ عمن ارادة الحال موجود ہیں کیونکہ یہ آیت جواب ہے زعم کفار کا کہ بحث ہر گز نہ ہو گا لہذا جواب میں بھی صرف استقبال مراد ہوا ۔ قال الله تعالى - زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُل بَلَى وَرَنِى لَتَبْعَثُنَ ثُمَّ لَتُتَبَّونَ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرُ ۲۸ ظاہر ہے کہ لن مضارع کو خالص استقبال کے واسطے کر دیتا ہے پس جبکہ زعم کفار صرف نفی بحث استقبال کے واسطے تھا تو جواب اور اُن کی رد میں بھی صرف استقبال ہی مراد لیا گیا۔ پس یہاں پر ایک قرینہ صارفه عن ارادة زمان الحال موجود ہے ۔ اور اگر آغاز بعث کا وقت موت سے لیا جاوے اور انتہا اس کا یوم النشور اور حشر اجساد تک ہو بلحاظ حدیث صحیح کے کہ من مات فقد قامت قیامته وارد ہے تو زمانہ حال بھی مراد ہوسکتا ہے۔ آیت لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ سے میں لام تاکید جو حال کے واسطے آتا ہے معد نون تاکید ثقیلہ کے موجود حال و استقبال دونوں زمانہ مراد ہیں۔ نہیں معلوم مولوی صاحب نے اکثر آیات گزشتہ جن میں بحسب مقامات کہیں حال و استقبال دونوں مراد ہیں اور کہیں دوام تجد دی مراد ہے۔ خصوصاً آیت ھذا کو خالص استقبال کے واسطے کیوں قرار دیا ہے۔ آیت ھذا کی تفسیر ملخصاً فتح البیان سے لکھی جاتی ہے تاکہ ناظرین کو ثابت ہو کہ خالص استقبال کا التزاماً مراد ہونا اس آیہ میں محض غلط اور باطل اور مخالف ہے تفسیر حضرت تقمه محد ثین حضرت نواب صاحب بہادر مغفور و مرحوم کے ۔ حضرت مرحوم نے تفسیر آیت مذکورہ میں جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے۔ حالا بعد حـال قـالـي الشعبي و مجاهد لتركبن يـا مـحـمـد سماء بعد سماء قال الكلبي يعني تصعد فيها وهذا على القراءة الاولى وقيل درجة بعد درجة و رتبة بعد رتبة في القرب الله و رفعة المنزلة و قيل المعنى لتركبن حالا بعد حال كل حالة منها مطابقة من التغابن: ٨ الانشقاق : ۲۰