اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 238
۲۳۸ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثه دیلی ۱۰۸) جب مولوی صاحب کچھ تحریر فرما دیں گے تو انشاء اللہ تعالی خاص اس قراءت کی نسبت بہ تفصیل اور بھی لکھا جاوے گا۔ واضح ہو کہ ابی بن کعب وہ صحابی جلیل القدر ہیں جن کی نسبت حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں واقرَأُ كُمُ أبَى وايضا قال قال رسول صلى الله عليه و سلم لابی بن كعب ان الله امرنى ان اقرأ علیک القرآن قال أ الله سمّانى لك قال نعم قـ م قال وقد ذكرت عند رب العلمين قال نعم فذرفت عيناه متفق علیہ اور ان حضرت ابی کا ایک مصحف بھی ہے جس کی ترتیب سور اتقان وغیرہ میں لکھی ہے۔ علم تفسیر مولوی صاحب نے اس علم کی طرف صرف اس قدر توجہ فرمائی ہے کہ بعض تابعین کے اقوال دربارہ ترجیح اپنی معنی مختار کے تفسیر ابن کثیر سے نقل کئے ہیں اور حضرت ابو ہریرہ کا فہم اور کچھ حضرت ابن عباس سے ایک آدھ قول نقل فرمایا ہے اور پر چہ ثانی میں مولوی صاحب نے یہ بھی اقرار کیا ہے کہ اس میرے معنی کی طرف ایک جماعت سلف میں سے گئی ہے یعنی اس آیت کی تفسیر مختلف فیہ اور ذ والوجوہ ہے اجماعی طور پر ایک معنے نہیں ہیں اور یہ بھی اقرار ہے کہ فہیم صحابی کو میں حجت نہیں جانتا۔ باوجود اس کے مولوی صاحب نے فن تفسیر کی طرف بالکل توجہ نہیں فرمائی۔ فن تفسیر کے رو سے کسی ایسی آیت کے معنی میں جس میں تعلق کسی پیشین گوئی کا ہو واقع ہونے پیشین گوئی تک قطعی کچھ فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ صرف ایک اجتہادی امر ہے کیونکہ حقیقت پیشین گوئی کی لا علم لنا میں داخل ہے بخلاف دیگر مطالب ضرور یہ تفسیر یہ کے کہ وہ علمتنا میں داخل ہو سکتے ہیں اور قطعی فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ مولوی صاحب باوجود یکہ اس آیت کو متعلق پیشین گوئی قرار دیتے ہیں پھر بھی لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ کا کچھ خوف نہ کیا اور آیت کی تفسیر میں اقوال رجال غیر معصومین سے یہ بات قطعی طور پر یقین کر لی کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ بعد نزول عیسی بن مریم کے اور قبل موت اس کی کے جس میں سب اہل کتاب حضرت عیسٹی پر ایمان لے آویں گے جب کہ آیت ذوالوجوہ اور متشابہ ہے اور مولوی صاحب کے نزدیک اس کا تعلق بھی پیشین گوئی سے ہے تو معہد اقطعی اور یقینی طور پر مولوی صاحب کون سے علم سے فیصلہ کر سکتے ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ نے بھی مشکی طور پر اپنے فہم کو ترجیح دی تھی و بس۔ کیا مولوی صاحب کو علم غیب ہے؟ یا اس آیت کی تفسیر میں کسی حدیث صحیح مرفوع ا بنی اسرائیل : ۳۷