اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 227
۲۲۷ الحق مباحثه دیلی روحانی خزائن جلدم میں علوم رسمیہ میں اس ہیچید ان کو ان پر ترجیح ہے۔ یہ مہیچمدان احق بالمباحثہ ہے ۔ جن علماء و اولیا کے (۹۷) نفوس قدسیہ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو الہام میں ید طولی حاصل ہو ان کو علوم رسمیہ کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ہے۔ یہ مسئلہ بھی فحول علما کا تسلیم کیا ہوا ہے اور اپنے محل پر ثابت ہے۔ یہاں تک کہ رسائل منطق اور ان کے حواشی میں علماء متقشفہ نے بھی اس مسئلہ کو مسلم کر کر لکھ دیا ہے کہ فنون منطق وغیرہ علوم رسمیہ کی حاجت نفوس قدسیہ کو ہرگز نہیں ہوتی اور جملہ قواعد صحیحہ اور اصول حقہ ان علوم کے ان کے اذہان میں ایسے مرکوز ہوتے ہیں کہ کوئی مسئلہ علمی متعلق ان فنون رسمیہ کے ان سے خلاف صادر نہیں ہوتا۔ پس اگر تسلیم بھی کیا جاوے کہ حضرت مرزا صاحب کو علوم رسمیہ میں مزاولت کم ہے تو ان کو باوجود حاصل ہونے یدطولیٰ کے الہام میں اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اور اسی وجہ سے ایسے علماء صاحب نفوس قدسیہ ملہمین کا کوئی عالم علوم رسمیہ کا مقابل ور دیف نہیں ہوسکتا ) ومن المثل السائر في الورى ـ ومن الرديف و قد ركبت غضنفرا مولوی شاہ ولی اللہ صاحب حکیم امت رحمۃ اللہ علیہ علوم حدیثیہ اسماء الرجال و اصول فقہ و اصول حدیث کی نسبت حجتہ اللہ میں ارشاد فرماتے ہیں۔ وهذا بمنزلة اللب والدر عند عامة العلماء و تصدى له المحققون من الفقهاء هذا۔ وان ادق العلوم الحديثية باسرها عندى واعمقها محتدا وارفعها منارا و اولى العلوم الشرعية عن أخرها فيما ارى و اعلاها منزلة وأعظمها مقدارا هو علم اسرار الدين الباحث عن حكم الاحكام ولمياتها واسرار خواص الاعمال و نكاتها فهو والله احق الـعـلـوم بـان يـصــرف فيه من اطاقه نفائس الاوقات ويتخذه عدة لمعاده بعد ما فرض عليه من الطاعات الى ان قال ولا تبين اسراره الالمن تمكن في العلوم الشرعيّة باسرها واستبد فى الفنون الالهية عن اخرها ولا يصفوا مشربه الا لمن شرح الله صدره لعلم لدنی وملاء قلبه بسر وهبى و كان ما ذلك وقاد الطبيعة سيال القريحة حاذقافي التقرير والتحرير بارعا في التوجيه و التحبير الى اخره اوراس احقر کو جو جناب نے حسن ظن فرما کر ایسا بڑھا دیا کہ مرزا صاحب سے احق بالمباحثہ قرار دیا یہ حسن ظن خلاف واقعہ ہے اور عکس القضیہ ، چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ایسا حسن ظن تو وضع الشيء فی غیر محلہ ہے اور اگر جناب والا کے نزدیک یہ حسن ظن فی محلہ ہے تو وہی مباحثہ